دہلی میں پھر لاک ڈاؤن کے آثار! تعمیراتی کاموں کو بند کرنے اور ’ورک فرام ہوم‘ نافذ کرنے کی تجویز

چیف جسٹس نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ این سی آر میں گڑگاؤں، نوئیڈا وغیرہ بھی شامل ہیں، وہاں بھی تعمیراتی کاموں کو روکا جانا چاہئے، لہذا آپ ان سے بھی بات کریں۔

دہلی میں دیوالی کے بعد آلودگی کا منظر / تصویر قومی آواز / وپن
دہلی میں دیوالی کے بعد آلودگی کا منظر / تصویر قومی آواز / وپن
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی این سی آر میں آلودگی کے حالات پر مرکزی حکومت کی ایمرجنسی میٹنگ میں دہلی حکومت نے تعمیراتی کاموں اور صنعتوں کو بند کرنے اور ورک فرام ہوم کا اصول نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ قبل ازیں، دہلی این سی آر میں آلودگی کے معاملہ پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کیجریوال حکومت نے کہا تھا کہ وہ مکمل لاک ڈاؤن جیسا اقدام لینے کو تیار ہیں لیکن قومی راجدھانی خطہ دہلی کے ساتھ این سی آر میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم، دہلی حکومت نے یہ بھی کہا کہ لاک ڈاؤن کا محدود پیمانے پر اثر ہوگا اور فضائی آلودگی کے مسئلہ کو ایئر شیڈ کی سطح سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں این سی آر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے دہلی حکومت سے کہا ہے کہ این سی آر میں گڑگاؤں، نوئیڈا وغیرہ بھی شامل ہیں، وہاں بھی تعمیراتی کاموں کو روکا جانا چاہئے، لہذا آپ ان سے بھی بات کریں۔


سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ دہلی حکومت نے ورک فرام ہوم کا اصول نافذ کیا ہے لیکن دہلی این سی آر میں ایک بڑی تعداد مرکزی ملازمین کی بھی ہے۔ لہذا مرکزی حکومت اس پر غور کرے۔ دہلی-این سی آر میں مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو فی الحال ورک فرام ہوم نافذ کرنے پر غور کرنا چاہئے۔

مرکز کی طرف سے پیش ہوئے تشار مہتا نے کہا کہ دہلی حکومت نے اس سلسلے میں اقدامات کئے ہیں۔ تعمیراتی کام رک گیا ہے اور دیگر فیصلے ہو چکے ہیں۔ ہریانہ نے بھی قدم اٹھایا ہے۔ سرکاری ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ تشار مہتا نے یہ بھی کہا کہ دہلی این سی آر میں پرالی جلانے سے آلودگی میں صرف 10 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ جب پرالی جلانا بنیادی وجہ ہی نہیں ہے تو پھر اس کی اتنی فکر کیوں؟ بغیر کسی سائنسی یا قانونی بنیاد کے؟


جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ آپ کی رپورٹ کہتی ہے کہ دھول، صنعتیں اور گاڑیاں وغیرہ اہم وجوہات ہیں، تو ان پر فوری قابو پانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ چیف جسٹس نے پوچھا- دہلی حکومت بتائے کہ کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔ حلف نامے کو چھوڑیں، بتائیں سڑکوں کی صفائی کے لیے کتنی مشینیں ہیں؟ آپ کے پاس 69 روڈ سویپر ہیں۔ کیا یہ کافی ہیں؟

راہل مہرا نے دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ایم سی ڈی سے حلف نامہ طلب کیا جانا چاہئے۔ اس پر سی جے آئی نے کہا کہ آپ ایم سی ڈی پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ پرالی جلانے سے ہونے والی آلودگی پر عدالت نے کہا کہ آپ ہریانہ-پنجاب سے بات کریں۔ ن سے پرالی نہ جلانے کے لئے کہیں۔ حکومتیں صرف کاغذات پر کاغذات کرنا چاہتی ہیں۔ اور کچھ نہیں بس صرف سیاست۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Nov 2021, 3:40 PM