اتر پردیش: انتخابی مہابھارت کے دوران سبھی کے خواب میں آ رہے ’شری کرشن‘، کس پر ہوگی کرم کی بارش؟

مہابھارت میں کرشن نے ارجن کا رَتھ ہانکتے ہوئے پانڈووں کو فتح دلائی تھی، یوپی میں 18ویں اسمبلی کے انتخاب میں بھی کرشن کو سیاسی پارٹیوں نے ’اہم کردار‘ بنا دیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کس کی کشتی پار لگتی ہے۔

اتر پردیش ودھان سبھا، تصویر آئی اے این ایس
اتر پردیش ودھان سبھا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مہابھارت میں کرشن نے ارجن کا رَتھ ہانک کر پانڈووں کو فتح سے ہمکنار کرایا تھا۔ یوپی میں 18ویں اسمبلی انتخاب میں بھی کرشن کو سیاسی پارٹیوں نے اہم کردار میں لا دیا ہے۔ لیکن اس سیاسی موسم میں وہ کس کے سارتھی بنیں گے، یہ تو 10 مارچ کو آنے والا نتیجہ ہی بتائے گا۔ کرشن کے کردار کو سب سے پہلے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ سامنے لائے تھے۔ ایودھیا اور کاشی میں عظیم الشان رام مندر تعمیر جاری ہے اور اب متھرا کی تیاری ہے۔ کیشو موریہ کے اس بیان کا اشارہ صاف تھا کہ بی جے پی یوپی انتخاب میں ڈیولپمنٹ کے ساتھ ہندوتوا کے ایشو کو بھی ہوا دینے کا ذہن تیار کر چکی ہے۔

ایودھیا، کاشی اور متھرا شروع سے ہی بی جے پی کے ایجنڈے کا حصہ رہے ہیں۔ ایودھیا میں شری رام جنم بھومی کے تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر تعمیر کا کام تیزی سے چل رہا ہے۔ اب متھرا جنم بھومی معاملہ زور پکڑ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں متھرا اور ورنداون کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تیرتھ استھل قرار دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے متھرا-ورنداون میونسپل کارپوریشن کے 22 وارڈوں کو ’پوتر تیرتھ استھل‘ قرار دیتے ہوئے وہاں گوشت اور شراب کی فروخت کو ممنوع قرار دیا ہے۔


بی جے پی مغربی اتر پردیش میں ہندوتوا کی گرمی کو شدت عطا کر کے حالات بدلنے کی کوشش میں بھی لگی ہے۔ متھرا ایشو ان کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ پورے ہندو سمج کے ساتھ اتھ مغربی یوپی میں متھرا کو خصوصی اعزاز حاصل ہے اور یہاں کے لوگ خود کو اس سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو لگتا ہے کہ اگر یہ ایشو لوگوں کے درمیان اٹھایا گیا تو اس سے جاٹوں کی ناراضگی کم ہو سکتی ہے۔ جاٹوں کا ایک حصہ بھی اس کی طرف لوٹنے سے تحریک کی ناراضگی کا ازالہ بھی آرام سے ہو جائے گا۔

متھرا کے بعد ایشو کی رفتار کو سیاسی پارٹیوں نے کم نہیں ہونے دی ہے۔ بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن ہرناتھ سنگھ یادو نے بھگوان کرشن کے ذریعہ خواب میں آ کر یہ ترغیب دینے کی بات کہہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو خط لکھا ہے۔ راجیہ سبھا رکن کا کہنا ہے کہ برج علاقہ کا ذرہ ذرہ چاہتا ہے کہ یوگی متھرا سے ہی اسمبلی انتخاب لڑیں۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ یوگی کے متھرا سے انتخاب لڑنے کی بحث کافی دنوں سے زوروں پر ہے۔


گزشتہ دنوں اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کے خواب میں بھی بھگوان شری کرشن جی آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ تمھاری حکومت بننے والی ہے۔ ان دنوں اتر پردیش کی انتخابی مہابھارت میں سب کے خواب میں شری کرشن آنے لگے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کی مانیں تو جب آپ کے پاس ایشوز کی کمی ہوتی ہے تو بھگوان کا سہارا بہت آرام سے لے لیا جاتا ہے۔ یہ سب سے آسان طریقہ نظر آتا ہے۔ لیڈروں کے خواب میں بھگوان آ رہے ہیں یا نہیں، اس کو پتہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بنا ہے۔

2017 کے انتخاب میں برج علاقہ کے علی گڑھ آگرہ ڈویژن کی 34 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ برج کو سیاسی مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پر کل 41 سیٹیں ہیں۔ 4 سماجوادی پارٹی کو ملی تھیں جب کہ بی ایس پی کو 2 سیٹیں مل پائی تھیں۔ اس فارمولے کو بدلنے میں یہاں پر کسان تحریک کا اثر رہا ہے، وہ انتخاب میں اپنا اثر دکھائے گا یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ یو پی کی سیاست کو کئی دہائیوں سے قریب سے دیکھنے والے پی این دویدی کہتے ہیں کہ سناتن روایت میں کرشن بڑے پالیسی ساز تھے۔ ان کا آشیرواد جسے ملے گا وہی 2022 کے اس انتخابی جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا۔


مرزا پور کے ماہر نجومیات لو مالویہ کہتے ہیں کہ جب تک کام بنتا رہتا ہے کسی کو بھگوان یاد نہیں آتے ہیں۔ جب لوگ پریشان ہوتے ہیں تبھی بھگوان کو یاد کرتے ہیں۔ اس کی ایک سائنسی وجہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دماغ ہمیشہ جاگتا رہتا ہے۔ انسان کے دو من ہوتے ہیں۔ ایک ظاہر اور ایک باطن۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور ہم ظاہر نہیں کر پاتے تو وہ باطن میں دبی ہوتی ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو خواب کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ انسان ہر دن خواب دیکھتا ہے۔ بغیر خواب کے نیند نہیں آتی ہے۔ یہ صرف تصورات کی دنیا نہیں بلکہ حقیقت سے بھی اس کا واسطہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔