کولکاتا: ستمبر کے مہینے میں بارش کا 14 سالہ ریکارڈ منہدم، ریاست میں بھاری تباہی

بھاری بارش کے سبب بنگال کے کئی اضلاع پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اس دوران ہزاروں افراد راحتی کیمپوں میں وقت گزار رہے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ نکال لیا گیا ہے۔

تصویر ٹوئٹر / @chhuti_is
تصویر ٹوئٹر / @chhuti_is
user

قومی آوازبیورو

کولکاتا: مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں پیر کے روز ہونے والی بارش نے ستمبر کے مہینے کا گزشتہ 14 سالہ ریکارڈ منہدم کر دیا۔ خلیج بنگال کے اوپر ایک گردابی گردش سے شروع ہونے والی بھاری بارش نے اتوار کی شب کولکاتا اور ملحقہ علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ جس کے بعد پیر کے روز شہر کے ایک بڑے حصہ میں پانی بھر گیا اور ریل خدمات معطل ہو گئیں۔ وہیں سڑکوں پر بھی نقل و حمل متاثر ہو گئی۔ تاہم نیتا جی سبھاش چندر بوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افسران نے کہا کہ فضائی خدمات متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

بھاری بارش کے سبب بنگال کے کئی اضلاع پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اس دوران ہزاروں افراد راحتی کیمپوں میں وقت گزار رہے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ نکال لیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہر ضلع مجسٹریٹ کو ایمرجنسی فنڈ فراہم کیا گیا ہے اور 24 گھنٹے کام کرنے کے لئے کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔


بارش کے سبب دیواروں کے منہدم ہونے اور کرنٹ کی زد میں آنے سے اب تک 14 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ اسی مہینے کی 14 سے 18 تاریخ کے درمیان ان میں سے 6 افراد کی موت دیوار کی زد میں آنے اور 8 افراد کی ڈوبنے کی وجہ سے موت ہو گئی ہے۔ ان میں سے 8 مغربی مدنی پور سے اور ایک مشرقی مدنی پور سے تعلق رکھتا تھا جبکہ ایک شخص لاپتہ بھی بتایا جا رہا ہے۔

مشرقی اور مغربی مدنی پور میں جمعرات تک 3 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے، کیوں کہ دونوں اضلاع میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ اب تک 47 بلاک اور 8 نگر پالیکائیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ کل 13 لاکھ 14 ہزار 328 لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آفت انتظامی دفتر کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ کولکاتا میں گزشتہ 14 سالوں میں ستمبر ماہ کی سب سے بھاری بارش اس سال ہو رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔