’نفرت کے آگے جھک رہے نوجوان، بی جے پی-آر ایس ایس کے ہاتھوں کا بنے مہرہ‘، بُلی بائی تنازعہ پر کھڑگے کا سخت رد عمل

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ نوجوان نفرت کے آگے جھک رہے ہیں، تعلیم اور روزگار میں آگے بڑھنے کی جگہ وہ بی جے پی-آر ایس ایس کے ہاتھوں کا مہرے بن گئے ہیں۔‘‘

ملکارجن کھڑگے، تصویر یو این آئی
ملکارجن کھڑگے، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بُلی بائی ایپ کے پیچھے کی ماسٹرمائنڈ ایک 18 سالہ لڑکی اتراکھنڈ سے ممبئی پولیس ٹیم کے ذریعہ پکڑے جانے کے بعد کانگریس نے بدھ کو بی جے پی اور آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ 21-18 سال کے بچوں کو آر ایس ایس اور بی جے پی نظریات کی کٹرپسندی سے متاثر جرائم کرتے ہوئے دیکھنا افسوسناک ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ نوجوان نفرت کے آگے جھک رہے ہیں۔ تعلیم اور روزگار میں آگے بڑھنے کی جگہ وہ بی جے پی-آر ایس ایس کے ہاتھوں کے مہرے بن گئے ہیں۔ ہندوستانیوں کی ایک نسل نفرت کے آگے جھک رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ممبئی پولیس نے بُلی بائی ایپ معاملے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے دو کا تعلق اتراکھنڈ سے ہے اور ایک کا بنگلورو سے۔ بُلی بائی تنازعہ یکم جنوری کو سامنے آیا جب صحافیوں، سماجی کارکنان، طلبا اور مشہور ہستیوں سمیت ایک خاص مذہب کی کئی خواتین کی تصویریں نیلامی کے لیے دستیاب کرانے کی شکل میں پوسٹ کی گئیں۔ تازعہ تنازعہ ’سُلی ڈیل‘ ایشو کے چھ مہینے بعد آیا ہے۔ دونوں ہی ایپ میں خاص مذہب کی خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔