کھڑگے اور راہل گاندھی کا مرکز پر شدید حملہ، منریگا کی روح کو تباہ کرنے کا الزام

ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ مرکز وی بی-جی رام جی ایکٹ کے ذریعے منریگا کے حقِ کام، اجرت اور پنچایتی اختیارات کو کمزور کر رہا ہے، جس سے دیہی مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوں گے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے (فائل)، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/kharge">@kharge</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ، یعنی منریگا، کی روح کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اتوار کو گرام پردھانوں، سابق گرام پردھانوں، روزگار سیوکوں اور منریگا مزدوروں کو ایک مشترکہ خط لکھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نئے وی بی-جی رام جی ایکٹ کے تحت دیہی مزدوروں سے حقِ کام اور حقِ اجرت چھین لیا جائے گا۔

خط میں راہل گاندھی اور کھڑگے نے منریگا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم نے گزشتہ بیس برسوں میں دیہی ہندوستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ ان کے مطابق، منریگا کے تحت 180 کروڑ سے زائد دنوں کا روزگار فراہم کیا گیا، تقریباً 10 کروڑ اثاثے جیسے دیہی تالاب اور سڑکیں تعمیر ہوئیں اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنا کر پنچایتی راج نظام کو مضبوط کیا گیا۔ کورونا وبا جیسے بحران کے دوران منریگا دیہی معیشت کے لیے زندگی کی ڈور ثابت ہوئی۔


کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وی بی-جی رام جی ایکٹ کے تحت کام کو قانونی حق کے بجائے سرکار کی مرضی پر منحصر ریوڑی بنا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق، پہلے ہر دیہی خاندان کو کام مانگنے پر 15 دن کے اندر روزگار فراہم کرنا لازمی تھا، مگر اب مرکز یہ طے کرے گا کہ کن گرام پنچایتوں کو کام ملے گا اور کن کو نہیں۔ اسی طرح اجرت کے حق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پہلے کم از کم اجرت سالانہ بنیاد پر طے ہوتی تھی اور سال بھر کام کی ضمانت تھی، جبکہ نئے نظام میں اجرت من مانے طریقے سے مقرر ہو سکتی ہے اور فصل کٹائی کے موسم میں اسکیم بند رہنے کا خدشہ ہے۔

خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ نئے قانون کے تحت گرام پنچایتوں کے اختیارات کم ہو جائیں گے اور فیصلے دہلی سے کیے جائیں گے۔ کانگریس کے مطابق، ٹھیکیداروں کی واپسی سے مقامی منصوبہ بندی متاثر ہوگی اور مزدور محض ٹھیکیداروں کے لیے سستا لیبر بن کر رہ جائیں گے۔ مزید یہ کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان 60:40 مالی شراکت داری کو ریاستی حکومتوں پر اضافی بوجھ قرار دیا گیا ہے، جس سے کام کے دن محدود کیے جانے کا اندیشہ ہے۔


راہل گاندھی اور کھڑگے نے کہا کہ اس کے سب سے برے اثرات دیہی خاندانوں، بالخصوص خواتین اور درج فہرست ذاتوں و قبائل پر پڑیں گے، جن کے لیے منریگا بھوک، قرض اور جبری ہجرت کے خلاف ایک مضبوط سہارا ہے۔ اسی تناظر میں کانگریس نے “منریگا بچاؤ سنگرام” کے نام سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ضمانتی روزگار، ضمانتی اجرت اور جوابدہی کی بحالی ہے۔ پارٹی کے مطابق، راہل گاندھی جلد ہی رائے بریلی میں منریگا مزدوروں سے ملاقات بھی کریں گے۔