کھڑگے کا مودی حکومت پر تیکھا حملہ، نوجوانوں کے مستقبل، رام مندر ٹرسٹ اور سرحدی سلامتی پر اٹھائے سوال

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر نوجوانوں کو تعلیم و روزگار میں ناکام کرنے، رام مندر ٹرسٹ کے چندے پر شفافیت نہ برتنے اور چین کی دراندازی پر وضاحت نہ دینے کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی این سی</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے نوجوانوں کے مستقبل، رام مندر ٹرسٹ کے چندے اور چین سے جڑی سرحدی صورتحال سمیت کئی اہم مسائل پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات کے مرکز میں ایک بنیادی سوال ہے کہ کیا عوام اس حکومت پر اعتماد کر سکتے ہیں؟

کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے افتتاحی خطاب کے اقتباسات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آج کانگریس کی اجتماعی تشویش کا سب سے بڑا موضوع نوجوان ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں نے نوجوانوں کو مایوسی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اسکول بند ہو رہے ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نوجوانوں کو پیپر لیک، بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور تقرریوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کانگریس صدر نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی نوجوانوں، تعلیم اور ہنرمندی پر توجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ووٹنگ کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کی گئی، نوودیہ ودیالیوں کا نیٹ ورک قائم کیا گیا اور تعلیم کو روزگار و اسکل ڈیولپمنٹ سے جوڑنے کی کوشش ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اب نوجوانوں کے لیے واضح، جامع اور وقت مقررہ پر مبنی ’ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ روڈ میپ‘ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا ہے اور حالیہ برسوں میں 94 ہزار اسکول بند ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی لاگت اور تعلیمی اداروں میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بھی سوال اٹھایا۔

رام مندر ٹرسٹ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ عوام نے عقیدت کے ساتھ چندہ، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا عطیہ کیں، اس لیے انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ مجموعی طور پر کتنا چندہ اور قیمتی سامان موصول ہوا اور اس کا حساب کتاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی بے ضابطگی کی شکایات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

چین سے متعلق کھڑگے نے سرحد پر تجاوزات کی خبروں پر حکومت سے شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، لیکن اسے عوام کے جائز سوالات سے بچنے کا ذریعہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے فوج کے جوانوں کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کی اصل صورتحال کے بارے میں ملک کے شہریوں کو جاننے کا حق ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل، عوام کا اعتماد اور ملک کی سرحدیں—تینوں معاملات حکومت کی جواب دہی سے جڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو ان مسائل پر غور کرنے کے ساتھ ملک کے سامنے متبادل پالیسی اور حل بھی پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے آئندہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا۔