کیرالہ لینڈ سلائیڈنگ: مرنے والوں کی تعداد 23 ہوئی، لاپتہ افراد کی تلاش میں ریسکیو آپریشن

زخمی ہونے والے افراد کا علاج مختلف اسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جبکہ حادثہ کے بعد سے 50 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں جنہیں تلاش کرنے کے لئے ہفتہ کے روز ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔

کیرالہ میں لینڈ سلائڈنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہوئی
کیرالہ میں لینڈ سلائڈنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہوئی
user

قومی آوازبیورو

اڈکی: کیرالہ میں ضلع اڈکی کے پیٹیموڈی میں جمعہ کو شدید بارش کے سبب تودہ کے ملبے سے ہفتہ کو مزید پانچ لوگوں کی لاش برآمد ہونے سے اس حادثہ میں اموات کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی۔ حادثہ میں ہلاک ہونے والے افراد میں بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد کا علاج مختلف اسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جبکہ حادثہ کے بعد سے 50 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں جنہیں تلاش کرنے کے لئے ہفتہ کے روز ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔

اس سے قبل دن میں جائے وقوع کے پاس سے ایک شخص کی لاش کا حصہ دیکھا گیا۔ اس کے بعد ریسکیو آپریشن اسی حصہ پر مرکوز کیا گیا، س دوران اور بھی لاشیں برآمد کی گئیں۔ دیگر لاپتہ کی تلاش میں ریسکیو آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ تودہ سے چائے باغان مزدوروں کی ایک قطار میں بنے مکان زمیں دوز ہوگئے۔ ملبہ میں کم از کم مزید 43 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔


نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی قیادت میں ہفتہ کی صبح دوبارہ راحت مہم شروع کی گئی۔ یہ مہم جمعہ نصف شب کے قریب روک دی گئی تھی۔ ٹاٹاٹی کمپنی، جس کے مذکورہ بالا مزدور ملازم تھے، نے کہا کہ عارضی مکانوں میں 81 افراد رہتے تھے، ضلع انتظامیہ کے افسران کے مطابق واقعہ کے وقت 78 افراد اس علاقہ میں موجود تھے۔

منار کے معروف سیاحتی مقام سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب اسٹیٹ ہاؤس کی چار لائینوں پر بڑے بڑے پتھر گر آئے۔ اس ضلع سے تعلق رکھنے والے ریاست کے بجلی کے وزیر ایم منی نے کہا کہ تمام متاثرین کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ منی نے کہا ، ’’لاپتہ افراد کی صحیح تعداد چائے کمپنی کو معلوم کرنی ہوگی چونکہ یہ رہائشی علاقہ ہے لہذا گرام پریشد کو بھی ان کے ہمراہ کام کرنا ہوگا۔ ملبے میں اب مزید افراد کے دبے ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔