کیجریوال حکومت کے پاس ملازمین کے لیے نہیں تنخواہ، مودی حکومت سے مانگی 5 ہزار کروڑ کی مدد

پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا کہ دہلی حکومت کے پاس فنڈ کی کمی ہو گئی ہے اور ملازمین کو تنخواہ دینے تک کے پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ جلد مالی تعاون کرے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا بحران کے درمیان کیجریوال حکومت کے سامنے اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کا ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے اس سلسلے میں 31 مئی کو ایک پریس کانفرنس کی، جس میں انھوں نے بتایا کہ مرکز کی مودی حکومت سے انھوں نے 5 ہزار کروڑ کے مالی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ "حکومت کے پاس ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں، لہذا ہم نے مرکزی حکومت سے فوری طور پر پانچ ہزار کروڑ روپے مدد کی اپیل کی ہے۔"

پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دہلی حکومت کے پاس فنڈ کی کمی ہو گئی ہے اور ملازمین کو تنخواہ دینے تک کے پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ جلد مالی تعاون کرے۔ سسودیا نے اس معاملے میں مرکزی وزیر خزانہ کو خط لکھ کر دہلی کے لئے پانچ ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں تفصیل بتاتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ "دہلی حکومت کو صرف تنخواہ دینے اور دفتر کے خرچ کو اٹھانے کے لیے 3500 کروڑ روپے ماہانہ کی ضرورت ہے جب کہ گزشتہ دو مہینوں میں جی ایس ٹی سے 500-500 کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔ باقی ذرائع کو ملایا جائے تو دہلی حکومت کے پاس کل 1735 کروڑ روپے آئے ہیں۔"

نائب وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے دہلی حکومت کا ٹیکس کلیکشن تقریباً 85 فیصد نیچے چل رہا ہے، لہٰذا مدد کی سخت ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکز کی طرف سے باقی ریاستوں کو جاری راحت فنڈ سے بھی کوئی رقم دہلی کو نہیں ملی ہے۔

next