کشمیری صحافیوں کو حق بولنے کی سزا مل رہی: محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں نے جموں و کشمیر میں میڈیا کو مسلسل ستائے جانے کے بارے میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔‘‘

محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ایک طرف نارملسی کے بیانیے کو پیش کرنے کے لئے یہاں لچکدار صحافیوں کو باہر سے لایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی صحافیوں کو حق بولنے کے پاداش میں سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جموں و کشمیر میں میڈیا کو مسلسل ستائے جانے کے بارے میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔

موصوفہ نے ان باتوں کی جانکاری پیر کے روز اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے فراہم کی ہے۔ ان کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ 'میں نے جموں و کشمیر میں میڈیا کو مسلسل ستائے جانے کے بارے میں ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو ایک مکتوب روانہ کیا۔ ایک طرف لچکدار صحافیوں کو یہاں لا کر ان سے نارمسلی کے بیانیے کو پیش کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف مقامی صحافیوں، جو انتہائی دباؤ میں کام کرتے ہیں، کو اقتدار کے سامنے سچ بولنے کے پاداش میں سزا دی جا رہی ہے'۔


قبل ازیں پی ڈی پی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 'پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پریس کونسل آف انڈیا اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں کشمیر میں صحافیوں کی منظم ایذا رسانی کے معاملے کو اٹھایا گیا ہے'۔ ٹوئٹر ہینڈل پر انگریزی زبان میں تحریر مذکورہ مکتوب کے متن کو بھی اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔