کشمیر: دریائے جہلم میں جلد چلے گی ’واٹر بس‘، ٹرائل رَن کامیاب

واٹر بس کے آپریٹر بھگت گپتا نے بتایا کہ یہ بس عام بسوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں دو انجن لگے ہوئے ہیں اور باڈی فائبر گلاس کی بنی ہے۔ اس واٹر بس میں بریک اور کلچ موجود نہیں ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بیچوں بیچ بہنے والے دریائے جہلم میں عنقریب واٹر بسیں چلیں گی۔ یہ واٹر بسیں پانتھہ چوک سے قمرواری تک چلیں گی۔ سکھ ناگ انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی نے جہلم میں چلنے والی 30 سیٹوں والی بس کا کامیاب ٹرائل رن انجام دیا ہے۔ کمپنی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کامیاب ٹرائل رن کے مرحلے سے گزرنے والی اس بس کو ہم نے بیرون ملک سے درآمد کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس کا کامیابی سے ٹرائل رن انجام دیا گیا ہے۔ ایسی مزید بسیں درآمد کی جائیں گی'۔

کمپنی کے ڈائریکٹر عمران ملک نے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومت ہند کی 'سودیش درشن اسکیم' کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'اس کا مقصد دریائے جہلم میں واٹر ٹرانسورٹ کی بحالی ہے۔ ان واٹر بسوں کو ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے طور پر کیا جائے گا۔ آج سے چھ دہائی قبل وادی میں واٹر ٹرانسپورٹ کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ 30 سیٹوں والی بس ہے۔ عملے کے اراکین کی تعداد پانچ ہوگی جن میں آپریٹر اور ریسکیور بھی شامل ہوں گے۔ یہ بس پانتھہ چوک سے ویر قمرواری تک چلے گی۔ ہم گورنر انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے یہ اقدام اٹھایا'۔


واٹر بس کے آپریٹر بھگت گپتا نے بتایا کہ یہ بس عام بسوں سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس واٹر بس میں دو انجن لگے ہوئے ہیں۔ اس بس کی باڈی فائبر گلاس کی بنی ہے۔ اس میں بریک اور کلچ نہیں ہے۔ یہ بس گیئر کنٹرول کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ بس کو روکنے کے لئے گیئر کو ریورس کرنا ہوتا ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔