خلیج کی جنگ سے کشمیر بھی متاثر، وادی کی سیاحت بدحال، خالی ہاؤس بوٹس اور بازار ویران

گزشتہ سال اس موسم میں سیاحوں کی اس قدر بھیڑ تھی کہ اوور بکنگ کرنی پڑتی تھی لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ہوائی ٹکٹ مہنگے کر دیے ہیں شاید اسی وجہ سے سیاح آنے سے گریز کر رہے ہیں۔

ڈَل جھیل، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

 ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان خلیج میں جاری جنگ کے اثرات اب وادی کشمیرتک پہنچ چکے ہیں۔ ہزاروں کلومیٹر دور ہورہی اس لڑائی نے یہاں معیشت کی شہ رگ مانی جانے والی سیاحت کی صنعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ سرینگر کی ڈل جھیل کے مشہور ہاؤس بوٹ میں خالی پڑے ہیں۔ ہاؤس بوٹ سے متعلق افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس موسم میں سیاحوں کی اس قدر بھیڑ تھی کہ اوور بکنگ کرنی پڑتی تھی لیکن اس بار صورتحال بالکل مختلف ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہوائی ٹکٹ مہنگے کر دیے ہیں شاید اسی وجہ سے یہاں سیاح آنے سے گریز کر رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہوٹل کے کاروبار کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ سری نگر کے ایک ہوٹل چین کے مالک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فی الحال کچھ گیس کا ذخیرہ ہے لیکن اگر سیاح نہیں آتے تو ہوٹلوں کو چلانا مشکل ہو جائے گا اور اسے بند کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔ ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے ہندوستان میں گیس کی شدید قلت محسوس کی جا رہی ہے۔


ان حالات سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور ہوابازی کے ایندھن کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے جموں و کشمیر حکومت نے مسافروں کے کرایوں میں 18 فیصد اضافہ کیا ہے لیکن ٹیکسی ڈرائیوروں کو اس سے کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ جب سیاح ہی نہ ہوں تو بڑھا ہوا کرایہ کس کام کا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 500 روپے کم کرایہ لینے کو بھی تیار ہیں، بس سیاح وادی میں آنے چاہئیں۔

کشمیر عام طور پر مارچ میں موسم بہار کی آمد کے ساتھ سیاحوں کی بڑی تعداد کی میزبانی کرتا ہے لیکن اس سال وادی ویران نظر آرہی ہے۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹ پہلے ہی کھانا پکانے کی گیس کی قلت کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھے۔ اب ہوائی کرایوں میں اضافہ نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ کشمیر ٹور اینڈ ٹریول آپریٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال اب تک صرف 15 فیصد ہی بکنگ ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو وہ لوگ بھی جنہوں نے پہلے سے ٹکٹ بک کروا رکھے ہیں اپنا سفر منسوخ کر سکتے ہیں۔


سیاحت میں بحران کا براہ راست اثر مقامی روزگار پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کشمیر کی سیاحت کی صنعت ہر سال تقریباً 8 ہزار کروڑ روپئے سالانہ کا حصہ ڈالتی ہے۔ اس شعب سے بالواسطہ طور پر تقریباً 70 ہزار افراد کو روزگار ملتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2022 تک 1.89 کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کا سفر کیا تھا جو گزشتہ 75 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم اس بات مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے فی الحال یہاں کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔