کشمیر: امسال بھی عید الاضحیٰ سے پہلے بازاروں میں روایتی گہما گہمی مفقود

عید الاضحیٰ کے پیش نظر جہاں وادی کے بازاروں میں امسال بھی روایتی گہما گہمی مفقود ہے وہیں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے سلسلے کی رفتار بھی سست ہی نظر آ رہی ہے

عید الاضحیٰ سے قبل مویشی بازار کا منظر / یو این آئی
عید الاضحیٰ سے قبل مویشی بازار کا منظر / یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: عید الاضحیٰ کے پیش نظر جہاں وادی کے بازاروں میں امسال بھی روایتی گہما گہمی مفقود ہی ہے وہیں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے سلسلے کی رفتار بھی سست ہی نظر آ رہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں خاص کر عید گاہ میں اگرچہ کافی تعداد میں قربانی کے جانوروں کے جھنڈ موجود ہیں لیکن خریدار کم ہی نظر آ رہے ہیں۔

کشمیر: امسال بھی عید الاضحیٰ سے پہلے بازاروں میں روایتی گہما گہمی مفقود

فیاض احمد نامی ایک شہری نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کورونا وبا سے لوگ اقتصادی بد حالی کے شکار ہوئے ہیں اور دوسری طرف مہنگائی بھی ہے جس کی وجہ سے بازاروں میں بھی روایتی گہما گہمی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے اور قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت بھی کم ہی نظر آ رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ 'مہنگائی بھی آسمان پر ہے ہر چیز کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے اشیائے خورد و نوش اور کپڑے خریدنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں رہ گئی ہے'۔ موصوف شہری نے کہا کہ جانوروں کی قیمتیں بھی مختص نہیں ہیں، کہیں منہ مانگی رقم پر جانور فروخت کیے جا رہے ہیں تو کہیں ریٹ میں اختلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بھی ریٹ کو قابو میں رکھنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کر رہی ہے۔

بھیڑ بکریوں کے جھنڈ کے ایک مالک نے بتایا کہ ماضی میں عید سے ایک ہفتہ قبل ہی ہمارے پاس خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی لیکن گزشتہ تین برسوں سے ہم خریداروں کی راہیں تکتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو خریدار چار بھیڑ خریدا کرتا تھا وہ مشکل سے ہی دو بھیڑ خریدتا ہے اور ایسے بھی خریدار ہیں جو ایک جانور بھی نہیں خریدتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کافی مال موجود ہے جس کو اسی عید کے موقع پر فروخت کرنے کی امید ہوتی ہے لیکن گزشتہ تین برسوں سے ہمارا کاروبار بھی مشکلات سے دوچار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔