یوپی کے تشدد زدہ علاقوں کے انتخابات منسوخ کرانے کے لئے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کروں گی: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے یوپی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ آٹھ جولائی کو بلاک پرمکھ کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے دوران خاتون امیدوار سے بدسلوکی کی جاتی ہے اور پولیس کھڑی کھڑی دیکھتی رہتی ہے۔

لکھیم پور میں پرینکا گاندھی / ٹوئٹر
لکھیم پور میں پرینکا گاندھی / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ہفتہ کے روز لکھیم پور کے پسگواں بلاک کے سیمرا گھاٹ پہنچ کر بلاک پرمکھ انتخابات کے دوران بدسلوکی کا شکار ہوئی سماج وادی پارٹی کی خاتون امیدوار سے ملاقات کی۔ پرینکا گاندھی نے اس دوران متاثرہ خاتون کو تسلی دی اور کہا کہ وہ ہر حال میں انہیں انصاف دلا کر رہیں گی۔ نیز جہاں جہاں بھی تشدد ہوا ہے وہاں کا انتخاب منسوخ کرانے کے لئے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کریں گی۔

پرینکا گاندھی نے اس دوران واضح الفاظ میں کہا، ’’جمہوریت کی عزت پامال کرنے والے بی جے پی کے غنڈے کان کھول کر سن لیں، خواتین پردھان، بلاک پرمکھ، رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بنیں گی اور ان پر ظلم و ستم اور تشدد کرنے والوں کو شہہ دینے والی حکوت کو شکست دیں گی۔ پنچایت انتخابات میں بی جے پی کے ذریعے کیے گئے تشدد کی شکار اپنی تمام بہنوں، شہریوں کے انصاف کے لئے میں الیکشن کمیشن کو مکتوب ارسال کروں گی۔‘‘


پرینکا گاندھی نے متاثرہ خواتین سے تقریباً 20 منٹ تک ملاقات کی، انہیں گلے بھی لگایا۔ انہوں نے یوپی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، ’’آٹھ جولائی کو بلاک پرمکھ کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے دوران خاتون امیدوار سے بدسلوکی کی جاتی ہے اور پولیس کھڑی کھڑی دیکھتی رہتی ہے۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ اس انتخاب کو منسوخ کیا جائے اور اس معاملہ میں جو بھی افراد ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ پنچایت انتخابات میں جیت پر وزیر اعظم مودی یوگی کی تعریف کرتے ہیں لیکن ان کو یہاں کی حقیقت نظر نہیں آتی، جبکہ واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ دو خواتین سے بدسلوکی ہوئی، لیکن انتظامیہ خاموش رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کم و بیش ہر ضلع میں کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ کہیں تشدد ہوا، کہیں بم پھوٹے ہیں اور کہیں خواتین کے ساتھ بدسلوکی ہوئی ہے اور وزیر اعظم پنچایت انتخابات کی جیت پر مٹھائی بانٹتے ہیں، یہ جمہوریت کا قتل نہیں تو اور کیا ہے!‘‘ انہوں نے کہا کہ جس اکیلے سی او نے متاثرین کو بچانے کی کوشش کی حکومت نے اسے ہی معطل کر دیا، بقیہ افسران جو کھڑے تھے ان کو کچھ نہیں کیا۔


پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ کوئی بھی انسان 10 غنڈے لے کر اس طرح کی دبنگئی کرے گا اور انتخاب جیت کر چلا جائے گا، کیا یہی جمہوریت ہے! کیا اس طرح کی جمہوریت ہی ملک اور ریاست میں قائم ہونی چاہیے۔ جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئیں اور وزیر اعظم مودی یوگی حکومت کے پنچایت انتخابات میں کارکردگی کی تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر یہی کرنا ہے تو پھر خواتین کو ریزرویشن کی کیا ضرورت ہے! انہوں نے کہا کہ وہ اس ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ کھڑی رہیں گی۔

اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو، قانون ساز کونسل کی ارادھنا مشرا مونا، سابق رکن پارلیمنٹ ظفر علی نقوی سمیت دیگر کانگریس لیڈران اور کارکنان موجود رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔