کشمیر: ماہ رمضان میں گراں بازاری اور بجلی کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان

فدا محمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ بازاروں میں گراں فروشی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے متعلقہ محکمے کی طرف سے کوئی ریٹ لسٹ دستیاب ہے نہ ہی چیکنگ اسکوارڈس کو متحرک کیا جا رہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں ماہ مبارک رمضان کے بیچ جہاں سحری اور افطار کے وقت بجلی کی آنکھ مچولی نے لوگوں کا جینا دو بھر کر کے رکھ دیا ہے وہیں بازاروں میں اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خوردنی کی مہنگائی نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ وادی کے بازاروں میں اشیائے ضروریہ خاص طور پر سبزیوں اور پھل کی گراں بازاری عروج پر ہے, جبکہ متعلقہ حکام ہاتھوں پر ہاتھ دھرے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک رمضان کے دوران سحری اور افطار کے وقت بجلی غائب ہوجاتی ہے جس سے روزہ داروں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔


فیاض احمد نامی ایک شہری نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بازاروں میں سبزی فروش لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبزیوں کو سونے کے بھاؤ بیچا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کوئی کارروائی انجام نہیں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں سبزیوں، مرغ اور پھل کو الگ الگ قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ فیاض احمد کا کہنا تھا کہ مرغ ایک علاقے میں 150 روپے فی کلو جبکہ دوسرے علاقے میں 170 فی کلو بیچا جا رہا ہے اور یہی حال سبزیوں کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر 50 روپے فی کلو، پالک 50 روپے فی کلو، مٹر 80 روپے فی کلو کے حساب سے بیچی جا رہی ہے۔

فدا محمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ بازاروں میں گراں فروشی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے متعلقہ محکمے کی طرف سے کوئی ریٹ لسٹ دستیاب ہے نہ ہی چیکنگ اسکوارڈس کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دکاندار لوگوں سے منہ مانگی قیمتوں پر اشیائے خوردنی فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے جب گراں فروشی کی شکایت متعلقہ حکام تک پہنچائی تو انہوں نے کارروائی کرنے کی بجائے بے بسی ہی ظاہر کی۔


محمد یوسف نامی ایک شہری نے بتایا کہ وادی میں جہاں بازاروں میں گرم بازاری عروج پر ہے، وہیں بجلی کی آنکھ مچولی نے بھی لوگوں کا جینا دو بھر کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سحری اور افطار کے وقت بجلی غائب ہوتی ہے جو روزہ داروں کے لئے سوہان روح بن گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نماز تراویح و نماز فجرکی ادائیگی کے لئے مسجد جانا مشکل بن گیا ہے کیونکہ ایک طرف ہر سو گھپ اندھیرا چھایا ہوتا ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر موجود پانی سے لبریز گڑھوں میں گر کر غرقآب ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔