کشمیر: بالائی علاقوں میں تازہ برف باری میدانی علاقوں میں بارش

وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی 270 کلو میٹر طویل سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ہفتے کی صبح مٹی کے تودے گر آںے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم خراب رہنے کا ہی امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے بالائی علاقوں میں ایک فٹ تک برف باری ہوسکتی ہے۔ ادھر وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی 270 کلو میٹر طویل سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ہفتے کی صبح مٹی کے تودے گر آںے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی۔

بتادیں کہ قومی شاہراہ جمع کے روز مرمتی کام کے پیش نظر ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند رہی۔ وادی میں ہفتے کے روز بھی میدانی علاقوں میں رک رک بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس سے لوگوں نے ایک بار پھر سردی محسوس کی اور اس سے بچنے کے لئے دفاتر، کام کی جگہوں اور گھروں میں گرمی کے آلات جیسے ہیٹر وغیرہ اور کانگڑیوں کا استعمال کرنا شروع کیا۔ وادی کے بالائی علاقوں بشمول مشہور زمانہ سیاحتی مقام جہاں ’کھیلو انڈیا‘ کھیلوں کا دوسرا ایڈیشن چل رہا ہے، پہلگام اور سونہ مرگ میں تازہ برف باری ہوئی ہے۔ میدانی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سڑکیں زیر آب ہوگئی ہیں جس سے لوگوں کا چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ہے۔


لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ہوئے گڑھوں میں پانی جمع ہوا ہے اور جب گاڑیاں چلتی ہیں تو اس پانی کی چھینٹیں دور دور تک چلنے والے راہگیروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر کہیں جانے کے لئے نہیں چھوڑتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 4.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گزشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت 8.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا جس سے ماہ فروری کی گرمیوں کا 57 سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔

قابل ازیں سری نگر میں ماہ فروری میں سال 1964 میں گرم ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی۔ بتا دیں کہ سری نگر میں 31 جنوری کی شب رواں سیزن کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا جس سے سردیوں کو تیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔ قبل ازیں سری نگر میں رواں سیزن کے دوران 14 جنوری کو سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری ریکارڈ ہوا تھا اور سردیوں کا پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔


سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں 2.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت 0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ وادی کو ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر ہفتے کی صبح مٹی کے تودے کھسک آنے کے باعث ٹریفک کی نقل و حمل روک دی گئی۔ ٹریفک حکام نے بتایا کہ شاہراہ پر رام بن کے بانہال علاقے میں شبانہ بارشوں کے باعث مٹی کے تودے کھسک آئے جس کے پیش نظر ہفتے کی صبح ٹریفک کو روک دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ایجنسیاں ملبے کو اٹھانے کے لئے لگی ہوئی ہیں ان کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی ٹریفک بحال کیا جائے گا۔

مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ ٹریفک کو رام بن، چندر کوٹ، اودھم اور نگروٹہ میں روک دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز گاڑیوں کو جموں سے سری نگر روانہ ہونے کی اجازت تھی۔ وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- لیہہ شاہراہ پر یکم مارچ سے ٹریفک بحال ہونے کی امید ہے۔ بتا دیں کہ یہ شاہراہ سال رواں کے یکم جنوری سے ٹریفک کی نقل وحمل کے لئے بند ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر گزشتہ چند ماہ سے ٹریفک مسلسل بند ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔