کرناٹک: عیسائی مذہب اختیار کرنے والی بی جے پی رکن اسمبلی کی والدہ ہندو مذہب میں واپس

بی جے پی رکن اسمبلی شیکھر نے چتردرگ کے نزدیک صحافیوں کو بتایا کہ میری ماں سمیت چار کنبوں کے اراکین نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا، لیکن ہندو مذہب میں واپسی کے ساتھ اپنی غلطی درست کر لی ہے۔

گلی ہٹی شیکھر، تصویر آئی اے این ایس
گلی ہٹی شیکھر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بنگلورو: کرناٹک کے چتردرگ ضلع سے بی جے پی کے رکن اسمبلی گلی ہٹی شیکھر کی والدہ سمیت چار کنبوں نے عیسائی مذہب سے پھر ہندو مذہب میں واپسی کی ہے۔ شیکھر نے چتردرگ کے نزدیک صحافیوں کو بتایا کہ میری ماں سمیت چار کنبوں کے اراکین نے عیسائی مذہب اختیارکرنے کے بعد واپسی کی ہے۔ انہوں نے آخرکار اپنی غلطی درست کرلی ہے۔

شیکھر نے کہا کہ جن کنبوں نے ہندو مذہب میں اپنی واپسی کی ہے، انہوں نے پیر کو مندر میں پہلے پوجا ارچنا کی اور ہندو مذہب کو پھر سے اپنانے کے اپنے فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ شیکھر نے بتایا کہ ان لوگوں کو بہکایا گیا تھا اور انہیں ان کی سچی آستھا میں واپس لانے کے لئے انہیں کافی محنت کرنی پڑی ہے۔


ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے شیکھر نے دعوی کیا تھا کہ ان کی والدہ سمیت 20,000 سے زیادہ لوگوں کوعیسائی مذہب میں منتقل کرایا گیا تھا۔ مذہب تبدیلی کو ایک ’قومی مسئلہ‘ اور لوگوں کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس پر لگام کسنے کے مدنظر ایک بل کو منظوری دیئے جانے کی بات کہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔