کرناٹک: پرائیویٹ اسپتال نے تھمایا کورونا مریض کو 5 لاکھ کا بل، ریاستی وزیر ناراض

مریض کے بیٹے کا کہنا ہے کہ "ہماری ترجیح ہے کہ والد محترم پوری طرح صحت یاب ہو کر جلد از جلد اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں۔ اس وقت میں معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کر کے کسی الجھن میں نہیں پڑنا چاہتا۔"

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے اثرات کے درمیان ایک پرائیویٹ اسپتال کے ذریعہ کووڈ-19 مریض کو منمانہ بل تھمانے کا معاملہ منظرعام پر آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بنگلورو واقع پرائیویٹ اسپتال نے 64 سالہ ایک مریض کو 5 لاکھ روپے کا بل دیا جس کا علاج گزشتہ 3 جولائی سے چل رہا ہے۔ اس تعلق سے جب سوشل میڈیا پر اسپتال کی تنقید شروع ہو گئی تو خبر ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن وزیر تک پہنچی اور انھوں نے اس پر سخت اعتراض کیا۔ انھوں نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپتال کے خلاف کارروائی کریں گے۔

میڈیکل ایجوکیشن وزیر ڈاکٹر کے. سدھاکر نے واقعہ کی تفصیل جاننے کے بعد اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک بل پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے اپولو اسپتالوں کے بل پوسٹ کیے ہیں اور کہا ہے کہ اسپتال حکومت کی ہدایات اور تنبیہ کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کر رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر سدھاکر ریاست میں کووڈ-19 مینجمنٹ کے انچارج بھی ہیں اور انھوں نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جو اسپتال حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہے ہیں اس کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔

ڈاکٹر سدھاکر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مجھے معلوم ہوا ہے کہ اپولو اسپتالوں میں مریضوں کو کافی دقتیں ہو رہی ہیں۔ میں نے اس سلسلے میں کئی بار آگاہ کیا ہے۔" دراصل حکومت نے پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کرانے والے کووڈ-19 مریضوں کے لیے ایک دن میں 5 ہزار روپے سے 15000 روپے تک کی فیس طے کی ہے۔ جب اس سلسلے میں اپولو اسپتال سے سوال کیا گیا تو ایک افسر نے بتایا "وزیر محترم کو کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ ہمارے مینجمنٹ نے انھیں تفصیلی جانکاری دے دی ہے۔"

اسپتال نے کووڈ-19 مریض کو 5 لاکھ روپے کا بل تھمائے جانے سے متعلق خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا کہ 64 سالہ مریض کو گزشتہ 3 جولائی کو آئی سی یو میں داخل کرایا گیا اور وہ آئی سی یو میں ہیں۔ ان کا بل بیمہ فیس کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اسپتال کے کارگزار افسر کا کہنا ہے کہ "مریض کے گھر والوں کو بل سے کوئی دقت نہیں ہے، بلکہ مریض کا بیٹا بھی میڈیکل سیکٹر میں ہے اور وہ حالات کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔"

اس تعلق سے میڈیا میں مریض کے بیٹے کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ مریض اب بھی اسپتال میں ہے۔ مریض کے بیٹے نے یہ بھی کہا کہ "ہماری ترجیح یہ ہے کہ والد پوری طرح صحت یاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں۔ اس وقت میں معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کر کے کسی الجھن میں نہیں پڑنا چاہتا۔"

Published: 30 Jul 2020, 6:40 PM
next