کرناٹک میں سرکاری ملازمین کو ہر ماہ ایک روز پہننا ہوگا کھادی کا کپڑا، کھادی کو فروغ دینے کے لیے کانگریس حکومت کا فیصلہ
یہ اصول ریاستی حکومت کے تمام ملازمین پر نافذ ہوگا، جس میں مختلف بورڈ اور کارپوریشن، یونیورسٹی، مختلف اتھارٹی اور امداد یافتہ اداروں (ایڈڈ انسٹی ٹیوٹس) میں کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہیں۔

کرناٹک میں سدارمیا کی قیادت والی کانگریس حکومت نے کھادی کے کپڑوں کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاست کے سرکاری ملازمین کے لیے مہینے میں ایک دن کھادی پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ حکومت کی چیف سکریٹری شالنی رجنیش کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ میں لیا گیا۔ اس فیصلے کے تحت ہر ماہ کے پہلے ہفتہ کو کھادی کا کپڑا پہننا لازمی ہوگا۔ یہ منصوبہ 24 اپریل سے نافذ ہوگا۔ یہ اصول ریاستی حکومت کے تمام ملازمین پر نافذ ہوگا، جس میں مختلف بورڈ اور کارپوریشن، یونیورسٹی، مختلف اتھارٹی اور امداد یافتہ اداروں (ایڈڈ انسٹی ٹیوٹس) میں کام کرنے والے ملازمین بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کھادی کی مصنوعات کو فروغ دینے کے مقصد سے، کرناٹک حکومت کی چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کی صدارت میں آج ودھان سودھا میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سرکاری اور سرکاری ملکیتی کارپوریشنوں، اتھارٹیز، یونیورسٹیوں اور امداد یافتہ اداروں کے افسران اور ملازمین کی جانب سے رضاکارانہ طور پر کھادی کے کپڑے پہننے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
کھادی کو فروغ دینے اور کھادی انڈسٹری کی مدد کے لیے، کرناٹک حکومت نے اپنے 5 لاکھ ملازمین کو ہر مہینے کے پہلے ہفتہ کو کھادی سے بنے کپڑے پہننے کی ہدایت دی ہے۔ حالانکہ کرناٹک اسٹیٹ گورنمنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن (کے ایس جی ای اے) کے صدر سی ایس شداکشری نے کہا کہ ’’کھادی کا کپڑے پہننا لازمی نہیں بلکہ اپنی مرضی سے ہے۔ چونکہ کھادی انڈسٹری اور ہمارے بنکروں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے ہم نے حکومت کی اپیل مان لی ہے۔‘‘
پہلے حکومت ریاستی ملازمین کو ہر جمعہ کو کھادی پہننے کے لیے کہنے پر غور کر رہی تھی، لیکن ملازمین پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کے پیش نظر اسے مہینے میں صرف ایک روز تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کے ایس جی ای اے کی پریس ریلیز کے مطابق مرد ملازمین کھادی سے بنی پینٹ، شرٹ اور اوورکوٹ پہن سکتے ہیں جبکہ خواتین ملازمین ساڑی اور چوڑی دار پہن سکتی ہیں۔ ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ خصوصی طور پر حکومت کے زیر انتظام کھادی اور گاؤں کی صنعت بورڈ (کے ایس جی ای اے) سے کپڑے خریدیں۔ ایسی خریداری کو فروغ دلانے کے لیے، حکومت نے ہر خریداری پر 5 فیصد اضافی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس منصوبہ کا اعلان 27-2026 کے بجٹ میں کیا جائے گا، جس کے تحت ایم ایس آئی ایل کے ذریعے فوج کی کینٹینوں کی طرز پر ریاستی حکومت کے ملازمین کو رعایتی شرحوں پر روزمرہ کی ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لیے ایک ’گورنمنٹ ایمپلائی کینٹین‘ شروع کی جائے گی۔
دوسری طرف طویل عرصے سے جاری مطالبے کو پورا کرتے ہوئے، کرناٹک حکومت نے جمعرات کو پولیس ملازمین کے لیے کیزول لیو کا اعلان کیا۔ کرناٹک کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ایم اے سلیم نے جمعرات کو ایک سرکولر جاری کرتے ہوئے تمام پولیس یونٹ کے سربراہوں اور تھانوں کے انچارجز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کی درخواست پر کیزول لیو منظور کریں۔ سلیم نے اپنے سرکولر میں کہا کہ ’’اگر کوئی پولیس ملازم اپنی سالگرہ یا شادی کی سالگرہ کی وجہ سے کیزول لیو لینا چاہتا ہے، تو اس کی درخواست پر توجہ دی جانی چاہیے اور چھٹی منظور کی جانی چاہیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔