کرناٹک: دلت نوجوان نے مندر میں موبائل کے استعمال پر اٹھایا سوال، تو لوگوں نے کر دیا حملہ

متاثرہ دلت نوجوان کی ماں کا کہنا ہے کہ بڑا بھائی مندر کے باہر کھڑا تھا جو اسے کالج چھوڑنے کے لیے انتظار کر رہا تھا۔ جب اس نے بھائی پر حملہ ہوتا دیکھا تو دوڑتا ہوا اسے بچانے کے لیے پہنچا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اقلیتی طبقات اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات لگاتار بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ایک نیا معاملہ کرناٹک کے بنگلورو سے سامنے آیا ہے جہاں دلت نوجوان کی صرف اس لیے پٹائی کر دی گئی کیونکہ اس نے مندر میں موبائل استعمال کرتے مندر ٹرسٹ کمیٹی کے ایک رکن سے ایسا نہ کرنے کو کہا۔

دراصل معاملہ 30 اکتوبر کا ہے جب دلت نوجوان کالج جانے سے پہلے ہر دن کی طرح وجے پورہ شہر واقع مندر پوجا کے لیے گیا تھا۔ اس دوران اس کا موبائل بج اٹھا۔ یہ دیکھ کر مندر کے پجاری نے اعتراض ظاہر کیا جس کے بعد نوجوان مندر سے باہر نکل گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لوٹتے وقت اس نے دیکھا کہ مندر ٹرسٹ کے چیئرمین پرکاش اپنے موبائل فون پر بات کر رہے ہیں۔ اس پر نوجوان نے ان سے سوال کیا کہ مندر میں وہ فون پر بات کیوں کر رہے ہیں۔ متاثرہ دلت نوجوان کی ماں کا کہنا ہے کہ بڑا بھائی مندر کے باہر کھڑا تھا جو اسے کالج چھوڑنے کے لیے انتظار کر رہا تھا۔ جب اس نے بھائی پر حملہ ہوتا دیکھا تو دوڑتا ہوا اسے بچانے کے لیے پہنچا۔ بعد میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔


اس واقعہ کے خلاف 4 نومبر کو دلت تنظیموں نے ایک ریلی نکالی جس میں قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ غلط سلوک کیا، پجاریوں کے ذریعہ استعمال کیے گئے کپڑے کے ایک ٹکڑے سے اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی اور اس پر حملہ کیا گیا۔

اس تعلق سے ’اے بی پی‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں مظاہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وجے پورہ پولیس اس واقعہ کے تعلق سے مناسب کارروائی نہیں کر رہی۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے میں صرف تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملے کے پیچھے موجود باقی لوگوں کو پکڑنے کی کوشش نہیں ہو رہی۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کے خلاف جو معاملہ درج کیا گیا ہے، اسے واپس لیا جائے اور ملزمین کو ضلع سے باہر کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔