کرناٹک چائلڈ رائٹس کمیشن نے پولس افسران کو لگائی پھٹکار، بچوں سے پوچھ تاچھ بند کرنے کا حکم

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ڈرامہ پیش کیے جانے کے بعد ’شاہین اسکول‘ کے بچوں کو لگاتار پولس پوچھ تاچھ کر کے پریشان کر رہی ہے۔ اس معاملے میں کمیشن نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پولس کو پھٹکار لگائی ہے۔

شاہین پرائمری اسکول
شاہین پرائمری اسکول
user

قومی آوازبیورو

کرناٹک کے بیدر واقع شاہین اسکول میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ دنوں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا تھا جس کے بعد اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور ڈرامہ میں شامل اداکاروں کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کیا گیا۔ کیس درج کیے جانے کے بعد لگاتار اسکول کے بچوں اور وہاں کے ٹیچروں سے پوچھ تاچھ جاری ہے جس کی وجہ سے بچوں میں ایک خوف کا عالم پیدا ہو گیا ہے۔ کرناٹک پولس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ میں شامل ایک بیوہ ماں کے 9 سالہ بیٹے سے بھی لگاتار پوچھ تاچھ کر رہی ہے جس پر کرناٹک چائلڈ رائٹس کمیشن (کرناٹک حقوق اطفال کمیشن) نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ کمیشن نے ضلع پولس پر کئی قوانین اور جوینائل جسٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

کرناٹک اسٹیشن کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (کے ایس پی سی آر) کے چیئرمین ڈاکٹر انٹولی سیبسٹین نے بیدر پولس کے افسران کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں ایس پی، ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی پی سطح کے افسر شامل ہیں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ شاہین پرائمری اسکول میں پولس جانچ کے نام پر خوف کا ماحول بنایا گیا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولس کو فوراً اسکولی بچوں سے پوچھ تاچھ بند کر دینی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کے بیدر میں ’شاہین پرائمری اسکول‘ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جو ڈرامہ منعقد کیا تھا، اس کے خلاف پولس کی کارروائی کے سبب کئی خاندان پریشان ہیں۔ ایک طرف تو ڈرامہ میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات سے بار بار پوچھ تاچھ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں، اور دوسری طرف اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو وطن غداری کے الزام میں گرفتار کیے جانے سے ان کی 10 سالہ بیٹی بے حال ہے۔

ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ایک ڈرامہ کی قیمت اسکول، استاذ اور طلبا کو اس طرح چکانی پڑے گی، ایسا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ بیدر کے پولس سپرنٹنڈنٹ ڈی ایل ناگیش نے گزشتہ دنوں کہا کہ ’’اسکول میں متنازعہ ڈرامہ پیش کیے جانے کے معاملے میں والدین سمیت کسی پر بھی ظلم نہیں کیا گیا ہے اور پولس نے چائلڈ جیوڈیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔‘‘ حالانکہ شاہین ایجوکیشن سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) توصیف مدیکری نے الزام عائد کیا ہے کہ پولس شہریت قانون کے خلاف کیے گئے ڈرامہ میں حصہ لینے والے پرائمری اسکول کے طلبا کو لگاتار پریشان کر رہی ہے۔ توصیف مزید کہتے ہیں کہ ’’اب تک تقریباً 80 طلبا اور کئی اساتذہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا کہ ایک ہی سوال بار بار پوچھ کر پولس کیا جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘