شاہین اسکول معاملہ: ’مجھے ماں سے ملنا ہے، گھر جانا ہے‘، گرفتار ماں کے بغیر تڑپ رہی بچی

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کرناٹک واقع بیدر کے شاہین پرائمری اسکول میں ہوئے ڈرامہ کے بعد گرفتار بیوہ ہیڈ مسٹریس کو بدھ کے روز بھی ضمانت نہیں ملی۔ ان کی 10 سالہ بیٹی ماں کے بغیر بے حال نظر آ رہی ہے۔

کرناٹک کے بیدر میں ’شاہین پرائمری اسکول‘ کے بچوں سے پوچھ تاچھ کرتی پولیس
کرناٹک کے بیدر میں ’شاہین پرائمری اسکول‘ کے بچوں سے پوچھ تاچھ کرتی پولیس
user

قومی آوازبیورو

کرناٹک کے بیدر میں ’شاہین پرائمری اسکول‘ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جو ڈرامہ منعقد کیا تھا، اس کے خلاف پولس کی کارروائی کے سبب کئی خاندان پریشان ہیں۔ ایک طرف تو ڈرامہ میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات سے بار بار پوچھ تاچھ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں، اور دوسری طرف اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو وطن غداری کے الزام میں گرفتار کیے جانے سے ان کی 10 سالہ بیٹی بے حال ہوئی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز بھی انھیں ضمانت نہیں ملی اور اسکول انتظامیہ بھی اس وجہ سے کافی متفکر ہے۔ چونکہ ہیڈ مسٹریس بیوہ ہیں اس لیے مجبوراً معصوم بچی کو پڑوسی کے یہاں رہنا پڑ رہا ہے۔

شاہین پرائمری اسکول
شاہین پرائمری اسکول

بتایا جاتا ہے کہ بچی چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے، لیکن اپنی ماں کی گرفتاری کے بعد وہ بری طرح ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ میڈیا والے جب اس کے پاس پہنچتے ہیں تو وہ نم آنکھوں کے ساتھ یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ’’مجھے نہیں پتہ میری ماں کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ میں انھیں جلدی دیکھنا چاہتی ہوں اور اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کی بے بسی اور پریشانی صاف جھلکتی ہے جب وہ کہتی ہے کہ ’’ماں کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ کسی 10 سال کی بچی کے لیے ماں کے بغیر رہنا آسان نہیں، اور وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ اسے دیکھنے والا دوسرا کوئی نہیں۔

ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ایک ڈرامہ کی قیمت اسکول، استاذ اور طلبا کو اس طرح چکانی پڑے گی، ایسا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ بیدر کے پولس سپرنٹنڈنٹ ڈی ایل ناگیش نے منگل کے روز میڈیا سے کہا کہ ’’اسکول میں متنازعہ ڈرامہ پیش کیے جانے کے معاملے میں والدین سمیت کسی پر بھی ظلم نہیں کیا گیا ہے اور پولس نے چائلڈ جیوڈیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی بھی نہیں کی۔‘‘ حالانکہ شاہین ایجوکیشن سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) توصیف مدیکری نے الزام عائد کیا ہے کہ پولس شہریت قانون کے خلاف کیے گئے ڈرامہ میں حصہ لینے والے پرائمری اسکول کے طلبا کو لگاتار پریشان کر رہی ہے۔ توصیف مزید کہتے ہیں کہ ’’اب تک تقریباً 80 طلبا اور کئی اساتذہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا کہ ایک ہی سوال بار بار پوچھ کر پولس کیا جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

بہر حال، ہیڈ مسٹریس کی گرفتاری 31 جنوری کو ہوئی تھی اور اسی وقت سے بچی اپنے پڑوسی کے یہاں رہ رہی ہے۔ پڑوسی بچی کی تکلیف دیکھ کر غمزدہ نظر آتے ہیں اور سبھی چہرے صاف بتا رہے ہیں کہ ایک ڈرامہ کو بنیاد بنا کر ایک بیوہ کو جس طرح گرفتار کیا گیا اور معصوم بچی کی تنہائی کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، وہ مناسب نہیں۔ قابل ذکر ہے کہ متنازعہ ڈرامہ اسکول میں گزشتہ 21 جنوری کو پیش کیا گیا تھا۔ اس کاویڈیو جب سامنے آیا تو پولس نے ڈرامہ میں شامل سبھی لوگوں کے علاوہ ڈرامہ دیکھنے آئے کچھ لوگوں سے بھی پوچھ تاچھ کی۔