کنچے کھیلنے کی عمر میں بن گئے گھڑسوار، مگر اسکول نہیں جاتے

رامراج تھانہ علاقے کے گاؤں دیول کی قلندر بستی میں وسیم جیسے درجنوں بچے ایسے ہیں جو اسکول تو نہیں جاتے لیکن گھوڑے کو زوردار طریقے سے دوڑاتے ہیں۔

کنچے کھیلنے کی عمر میں بن گئے گھڑسوار
کنچے کھیلنے کی عمر میں بن گئے گھڑسوار
user

آس محمد کیف

رامراج: سات سالہ وسیم پلیٹ فارم کی مدد سے ساڑھے 6 فٹ اونچے اور تقریباً 10 فٹ لمبے گھوڑے پر چھلانگ لگا کر چڑھ جاتے ہیں اور اپنی صلاحیت سے حیرت زدہ کرتے ہوئے گھوڑا دوڑا کر لے جاتے ہیں۔ وسیم کے چچا عابد مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس نے چار سال کی عمر میں گھڑسواری سیکھ لی تھی، تاہم وہ جس گھوڑے کو دوڑاتا تھا وہ بستی کا سب سے چھوٹا گھوڑا تھا۔ اب وہ جس گھوڑے کو دوڑا رہا ہے وہ سب سے بڑا گھوڑا ہے اور اس کا نام سلطان ہے۔

کنچے کھیلنے کی عمر میں بن گئے گھڑسوار، مگر اسکول نہیں جاتے
کنچے کھیلنے کی عمر میں بن گئے گھڑسوار، مگر اسکول نہیں جاتے

بمشکل 4 فٹ قد کے وسیم کی گھوڑے دوڑانے کی صلاحیت سے الگ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک دن کے لیے اسکول گئے ہیں اور اس دن بھی انہوں نے کچھ نہیں پڑھا۔ اسے صرف اتنا یاد ہے کہ اس کی ٹیچر میڈم تھیں اور انہوں نے اسے کچھ نہیں پڑھایا! وسیم بتاتے ہیں کہ وہ گاؤں کا ایک سرکاری اسکول تھا اور ان کا اسکول میں بالکل بھی دل نہیں لگا۔ وسیم کے چچا عابد نے انہیں گھڑسواری سکھائی ہے اور وہ ہائی وے پر 15 کلومیٹر تک گھوڑا دوڑا چکے ہیں۔


رامراج تھانہ علاقے کے گاؤں دیول کی قلندر بستی میں وسیم جیسے درجنوں بچے ایسے ہیں جو اسکول تو نہیں جاتے لیکن گھوڑے کو زوردار طریقے سے دوڑاتے ہیں۔ ارد گرد کھڑے 20 لڑکوں میں سے صرف 2 بچے اسکول جاتے ہیں۔ ان میں سے 13 سالہ امان پہلی جماعت میں پڑھتے ہیں اور اپنے نام کا املا بھی ٹھیک سے نہیں بتا پاتے۔ 10 سالہ عثمان کبھی اسکول نہیں گئے لیکن وہ شادیوں میں گھوڑی لے کر جاتے ہیں۔ وہ اس گھوڑا گاڑی کو چلاتے ہیں جس میں دولہا بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ ان کے والد کا آبائی کام ہے۔ نسیم بتاتے ہیں کہ اگرچہ ہمارے بزرگوں کا اصل کام کھیل کود اور تماشے کرنا تھا لیکن اب تقریباً سبھی گھوڑوں کی طرف آگئے ہیں۔ ہم شادیوں میں گھوڑا گاڑی لے کر جاتے ہیں۔

رامراج کی اس دیول بستی میں 100 خاندان رہتے ہیں اور صرف 5 یا 6 لڑکے ہی اسکول جاتے ہیں۔ لڑکیوں کی حالت اور بھی خراب ہے کیونکہ ان میں سے ایک بھی اسکول نہیں جاتی۔ 50 سالہ گلزار سل پر مصالحہ پیس رہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ وہ بہت غریب ہے اور یہاں کی خواتین بھی کام پر جاتی ہیں، جنہیں روزانہ 240 روپے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہاں ایک بھی شخص تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ پڑھائی کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہمیں راشن بھی نہیں ملتا۔ ہم جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور بچوں کے گھر والوں کو لگتا ہے کہ اگر وہ پڑھ لکھ جائیں گے تو وہ محنت نہیں کر پائیں گے ان کے کھانے کے لالے پڑ جائیں گے۔‘‘


گلزارہ بتاتی ہیں ہے کہ الیکشن کے دوران لیڈر ووٹ لینے آتے ہیں اور ان کے قدموں میں گر جاتے ہیں اور پھر وہ ان کا کوئی خیال نہیں رکھتے، وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے پڑھیں! لیکن یہ ہوگا کیسے! مقامی رہائشی اور سابق ضلع پنچایت کے رکن سوہن لال چاندنا کا کہنا ہے کہ قلندر بستی میں بچوں کو نہ پڑھانا روایات بن چکی ہے، حالانکہ کچھ خاندانوں نے لیک سے ہٹ کر بچوں کو پڑھانے کی ہمت کی ہے۔ اس سماج میں انتہائی پسماندگی ہے، لڑکیوں کو تو یہ بالکل بھی پڑھانا نہیں چاہتے۔ حکومت کو ان کی ترقی کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ سوہن لال کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مقامی عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کو کوششیں کرنی ہوں گی۔ اس طبقہ کے لوگوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بچے اسکول میں داخلہ لے بھی لیں تو پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔

سلیم بتاتے ہیں کہ سرکاری اسکول سڑک کے دوسری طرف ہے اور اس کے لیے ہائی وے کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ اب چھوٹے بچوں کو اس طرف بھیجتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ہم جنگلوں میں رہنے کے عادی ہیں۔ بلاک ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر سویتا ڈبرال بتاتی ہیں کہ شاردا ابھیان کے تحت وہ ایسے بچوں کو اسکول لائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بچوں کے گھر والوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ انہیں اسکول بھیجیں۔ ہم خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی کوششیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر محلہ کلاسیز کا اہتمام کریں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔