تحریک لبیک پاکستان عسکریت پسند تنظیم قرار: فواد چوہدری

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو ایک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر لیا جائے گا، ہم انہیں سیاسی جماعت نہیں سمجھیں گے۔

فواد چوہدری، تصویر آئی اے این ایس
فواد چوہدری، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں جس میں عسکری قیادت بھی شامل تھی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اب سے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو ایک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید بتایا کہ آج ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں بھی حتمی فیصلہ لیا گیا کہ کسی بھی صورت میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیم کو شکست دی ہے، پہلے بھی ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی، بعد میں انہیں احساس ہوا۔ انہوں نے ٹی ایل پی کا حوالہ دے کر کہا کہ اس تنظیم کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان کے پاس دہشت گرد تنظیموں کی طرح ہتھیار نہیں ہیں اس لیے کسی مائی کے لال میں جرأت نہیں کہ وہ ریاست کو بلیک میل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے 6 مرتبہ تماشہ ہو چکا ہے اور ہم نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ لوگوں کو نقصان پہنچا جبکہ ٹی ایل پی کی قیادت چاہتی ہے کہ لوگوں کا خون سڑکوں پر نظر آئے۔


چوہدری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ جھڑپ میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 49 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، ٹی ایل پی کے ساتھ 27 کلاشنکوف بردار مل چکے ہیں اس لیے کوئی غیر قانونی احتجاج برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو ایک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر لیا جائے گا، ہم انہیں سیاسی جماعت نہیں سمجھیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے خبردار کیا کہ یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والے اپنے رویے پر نظر ثانی کریں، ان میں کچھ لوگوں کا تعلق میڈیا سے ہے، ریاست جعلی خبریں پھیلانے والوں کو بالکل برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پی ٹی اے کو واضح ہدایت کردی گئی ہیں۔


خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفارتکار کو بے دخل کرنے سے متعلق 6 ماہ قبل ہونے والے معاہدے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے اور سعد رضوی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے باقاعدہ مذاکراتی ٹیم کے اعلان سے قبل تک کئی شہروں میں ٹی ایل پی اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت ٹی ایل پی کے کارکن بھی جاں بحق ہوئے، جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔