کملیش تیواری قتل: 72 گھنٹے کی ’سفری ریمانڈ‘ پر ملزمان، آج احمد آباد سے لایا جائے گا لکھنؤ

سخت گیر ہندو رہنما کملیش تیواری کے سنسنی خیز قتل کے تین ملزمان کو 72 گھنٹے کی ’سفری ریمانڈ‘ پر لیا گیا ہے اور آج انہیں احمد آباد سے لکھنؤ لایا جائے گا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

سخت گری ہندو رہنما کملیش تیواری کے جمعہ کو قتل کے بعد اس معاملہ میں تین ملزمان کو آج احمدآباد سے لکھنؤ لایا جائے گا، ملزمان کو یو پی اے ٹی ایس (انسداد دہشت گردی ٹیم) کی طرف سے سفری (ٹرانزٹ) ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔

یوپی اے ٹی ایس کی ٹیم نے گجرات کے سورت سے تین افراد کو جمعہ کی رات حراست میں لیا تھا۔ انتظامی ذرائع نے بتایا کہ ان تینوں ملزمان کو لکھنؤ لانے کے بعد ان سے پوچھ گچھ بھی کی جا سکتی ہے، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یو پی اے ٹی ایس کا دعوی ہے کہ تینوں ملزمان کی ایک میٹھائی کی دکان میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کے ذریعے شناخت کی گئی ہے۔

احمد آباد کی ایک عدالت نے ان تینوں ملزمان کو 72 گھنٹے کی سفری ریمانڈ دی ہے اور پولس نے اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ دو افراد ناکا ہنڈولا تھانے کے تحت آنے والے علاقے خورشید باغ میں واقع کملیش تیواری کے گھر مٹھائی کا ڈبا لے کر پہنچے تھے اور بعد میں انہوں نے تیواری کا قتل کر دیا۔ اتر پردیش پولیس نے پہلے ہی مقتول کی اہلیہ کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر مفتی نعیم کاظمی اور مولانا انوارالحق کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان ٹرین سے لکھنؤ آئے تھے اور اس معاملہ میں پولس نے 60 سے زیادہ کیمروں کی فوٹیج کا معائنہ کیا، جن میں سے 25 فوٹیج میں کملیش تیواری کے قاتل مبینہ طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 22 گھنٹوں کے دوران کل 155 فول کالز کی تفصیلات کی بھی تفتیش کی گئی ہے۔

ادھ، لکھنؤ کے ایک ہوٹل سے زعفرانی کپڑے اور ایک بیگ برآمد ہوئے ہیں۔ پولس کے مطابق کپڑے خون آلودہ ہیں اور ہوٹل مالک سے ملزمان کے فوٹو اور آئی ڈی بھی برآمد ہو گئے ہیں۔ ہوٹل کے انٹری رجسٹر میں ملزمان کے نام موجود ہیں، اس میں پتہ سورت کا درج کیا گیا ہے۔

next