ایم جے اکبر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے مقدمہ پر فیصلہ آج

2018 میں ہیش ٹیگ موومنٹ ’می ٹو‘ کے تناظر میں رمانی نے اکبر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ جس کے بعد اکبر نے رامانی کے خلاف فوجداری ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

ایم جے اکبر / آئی اے این ایس
ایم جے اکبر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سابق وزیر اور نامور صحافی ایم جے اکبر کی جانب سے ساتھی صحافی پریا رامانی کے خلاف دائر فوجداری ہتک عزت کے مقدمہ میں دہلی کی ایک عدالت آج فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ ایم جے اکبر نے خود پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے کے بعد رمانی پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

2018 میں ہیش ٹیگ موومنٹ ’می ٹو‘ کے تناظر میں رمانی نے اکبر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ جس کے بعد اکبر نے رامانی کے خلاف فوجداری ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور مرکزی وزیر کے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ یہ مقدمہ 2019 میں شروع ہوا تھا اور اس میں تقریباً دو سال تک سماعت ہوئی۔

پریا رمانی نے 2017 میں ’ووگ‘ کے لئے ایک مضمون لکھا اور نوکری کے لیے انٹرویو کے دوران اپنے سابق باس کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بارے میں بتایا۔ ایک سال بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ مضمون میں ہراساں کرنے والا شخص ایم جے اکبر تھے۔

اکبر نے عدالت کو بتایا کہ رمانی کے الزامات فرضی تھے اور ان کی ساکھ اور شبیہ کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف، پریا رمانی نے کہا کہ وہ اعتماد اور عوامی مفاد کی خاطر ان حقائق کو عوام کے سامنے لائیں۔ اگر رمانی قصوروار ثابت ہوتی ہیں تو انہیں دو سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ رویندر کمار پانڈے نے یکم فروری کو ایم جے اکبر کی وکیل ایڈووکیٹ گیتا لوتھرا اور پریا رامانی کی وکیل ربیکا جان کے دلائل سننے کے بعد اس کیس میں فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔