صحافی کا قتل: یو پی میں جنگل راج، شکایت کے بعد عوام کو بدمعاشوں سے ڈر ستاتا ہے، پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ اترپردیش میں نظم و نسق کی حالت کافی خستہ ہے۔ مجرمین پولیس اور میڈیا نمائندوں کا بھی قتل کر رہے ہیں اور حکومت کے پاس اسے روکنے کی کوئی ترکیب نہیں ہے۔

پرینکا گاندھی، تصویر Getty Images
پرینکا گاندھی، تصویر Getty Images
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع غازی آباد میں پیر بدمعاشوں کے قاتلانہ حملے میں زخمی صحافی وکرم جوشی کی بدھ کو دوران علاج موت کے بعد کانگریس سمیت ریاست کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ اترپردیش میں نظم و نسق کی حالت کافی خستہ ہے۔ مجرمین پولیس اور میڈیا نمائندوں کا بھی قتل کر رہے ہیں اور حکومت کے پاس اسے روکنے کی کوئی ترکیب نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اپنی بھانجی کے ساتھ چھیڑ خانی کی مخالفت کرنے پر صحافی وکرم جوشی کو بیٹی کے سامنے گولی ماری گئی تھی۔ آج ان کی موت ہو گئی۔ یو پی میں جنگل راج اس قدر بڑھ گیا ہے کہ شکایت کرنے کے بعد عوام کو بدمعاشوں سے ڈر ستاتا ہے۔ بی جے پی حکومت جرائم کے معاملہ میں پچھلی سرکاروں کی طرح ہی فیل ہے۔‘‘

اس معاملہ پر پرینکا گاندھی نے گزشتہ روز بھی ٹوئٹ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا، ’’غازی آباد این سی آر میں ہے۔ یہاں نظام قانون کے حال کا اندازہ لگا لیجئے۔ ایک صحافی کو اس لئے گولی مار دی گئی کیوں کہ انہوں نے بھانجی کے ساتھ چھیڑ خانی کی تحریر پولیس کو دی تھی۔ اس جنگل راج میں کوئی بھی عام آدمی خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے گا؟‘‘

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی رام راج دینے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی تھی لیکن یہاں جنگل راج قائم ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند ہیں۔ اپنی بھتیجی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی مخالفت کرنے پر صحافی کو گولی مار کر کردیا جاتا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس ے زیادہ کرائم وائرس خطرناک ہوگیا ہے۔ ریاست میں جرائم کی حالت باعث تشویش ہے۔ وہیں کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے بڑھتے جرائم کے سلسلے میں وزیرا علی یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفی دینےکا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے ریاست کی باغ ڈور نہیں سنبھل رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین