بی جے پی حکمراں تریپورہ میں صحافی پر پھر ہوا حملہ

تریپورہ کے وزیر اعلی بپلپ کمار دیب نے کورونا وائرس کے انتظامات میں حکومتی ناکامی سے متلق خبریں شائع ہونے کے بعد صحافیوں کو انتباہ کیا تھا جس کے بعد اب تک ساتویں بار صحافیوں پر حملہ ہوا ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

اگرتلہ: تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیب کی جانب سے کورونا وائرس کے انتظامات پر اپنی حکومت کی ناکامی کے سلسلے میں میڈیا کو دیے گئے کھلے انتباہ کے بعد اب تک ریاست میں سات صحافیوں کوسماج دشمن عناصر کے ذریعہ نشانہ بنا یا جاچکا ہے۔ شمالی تریپورہ کے فاتیکرویہ میں جمعہ کی دیر شب تعمیراتی مافیاؤں اور ان کے گروہ میں شامل انجینئر نے روزنامہ میں کام کرنے والے ایک صحافی تپن بانک پر پر حملہ کیا۔تپن کو ایک اسکول کی لیباریٹری کی زیرتعمیر چھت گرنے سے متعلق خبرلکھنے کے سلسلے میں یہ مافیا گروہ گزشتہ دو روز سے دھمکی دے رہا تھا۔ تریپورہ شرمجیوی پترکار سنگھ نے تپن پر ہونے والے حملہ میں شامل لوگوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی روزنامہ کے صحافی تپن تین روز قبل انجینئر شانتنو بھومک سے اس تعمیر کے بارے میں معلومات لینے گئے تھے لیکن انہوں نے اس سے متعلق کچھ بھی انکشاف کرنے سے انکارکردیا۔اس کے چند منٹوں کے بعد ملزم ٹھکیدار آکاش کارکا فون تپن کے پاس آیا جس میں انہیں معاملے کو آگے نہ بڑھانے کی دھمکی دی اور مبینہ طور سے مسٹر دیو کی جانب سے 11 ستمبر کو عوامی تقریب کے دوران میڈیا کو دئے گئے انتباہ کا یاد دلایا۔ مسٹر ویپلب دیو کی وارننگ کے بعد یہ ساتویں صحافی پر کیا حملہ ہے۔ تپن یہ خبر شائع نہیں کرپائے لیکن یہ خبر کسی دوسرے اخبار میں شائع ہوگئی جس میں اس معاملے کے لیے شانتنو اور آکاش کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس معاملے میں تپن کو ذمہ دار مانتے ہوئے اسے دوبارہ سنگین نتائج کاانتباہ دیا گیا۔تپن نے اس معاملے کی پولس کو اطلاع دی لیکن کوئی شکایت درج نہیں کرائی کیونکہ ان کے والدین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد خاندان کے تمام افراد کوارنٹائن ہیں۔

صحافی تپن نے کہاکہ ’’آکاش کی سربراہی میں بدمعاشوں کے ایک گروہ نے کل شب میرے گھر فاتیکرویہ پر حملہ بول دیا۔وہ گیٹ توڑ کر گھر میں گھس گئے اور میرے ساتھ مارپیٹ کی۔ میرا چھوٹا بھائی اور اہلیہ اس وقت زخمی ہوگئے جب وہ مجھے بچانے آئے۔ میرے بیٹے کے ساتھ بھی بدمعاشوں نے بدتمیزی کی اور انہوں نے بار بار مجھ سے صحافت چھوڑنے کو کہا "۔تپن پر حملہ کے ساتھ ہی ریاست میں وزیر اعلی بپلب دیب کی وارننگ کے بعد اب تک سات صحافی بدمعاشوں کے حملے کا شکار ہو چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے میڈیا کے ایک طبقہ پر الزام عائد کیا تھا کہ ریاست میں کوروناوائرس کی بدانتظامی کو ظاہر کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور تریپورہ کے لوگ انہیں معاف نہیں کریں گے۔میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ میں بپلب دیب، جو کہتا ہوں کرتا ہوں"۔

تریپورہ میڈیا کی اعلیٰ تنظیم اسمبلی آف جرنلسٹ (اے او جے) نے وزیراعلیٰ سے صحافیوں کو دیا گیا انتباہ واپس لینے اور اپنے کیڈروں کو احتیاط کرنے اور پولیس کو تمام قصورواروں کے خلاف معاملہ درج کرنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔تنظیم نے کہا کہ مسٹر دیو نے ہمارے مطالبے کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا اور مختلف مواقع پر بالواسطہ میڈیا کی توہین ہی کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔