ہریانہ حکومت پر خطرات کے بادل، جے جے پی اور 5 آزاد اراکین اسمبلی نے کی خفیہ میٹنگ!

کسان تحریک کے درمیان ہریانہ میں بڑی سیاسی ہلچل شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی حکومت کو حمایت دے رہے پانچ آزاد اراکین اسمبلی اور جے جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے زرعی قوانین معاملہ پر خفیہ میٹنگ کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

دھیریندر اوستھی

ہریانہ میں بی جے پی-جے جے پی حکومت میں کسان تحریک نے زبردست اتھل پتھل پیدا کر دی ہے۔ حکومت کو حمایت دے رہی جن نایک جنتا پارٹی (جے جے پی) اور آزاد اراکین اسمبلی کا کھٹر حکومت پر مسئلہ جلد سلجھانے کو لے کر زبردست دباؤ ہے۔ اس تحریک کو لے کر بی جے پی اراکین اسمبلی کی بے چینی بھی سامنے آ رہی ہے۔ منگل کو ریاستی سیاست میں گرمی اس وقت اچانک پھر بڑھ گئی جب حکومت کو حمایت دے رہے پانچ آزاد اراکین اسمبلی اور جے جے پی رکن اسمبلی جوگی رام سہاگ نے کسانوں کی حمایت میں پنچکولہ میں ایک خفیہ میٹنگ کی۔ اس کے بعد ان میں سے چار اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سے بھی ملاقات کی۔

ہریانہ کے کسانوں کی ’کسان تحریک‘ میں زبردست تعداد میں شراکت داری حکومت کو حمایت دے رہے آزاد اراکین اسمبلی اور جے جے پی کو پریشان کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منگل کا دن ریاست کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل لے کر آیا۔ پنچکولہ کے سیکٹر 12اے میں آزاد اراکین اسمبلی کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی جس میں پرتھلا کے رکن اسمبلی نین پال راوت، پنڈوری کے رکن اسمبلی رندھیر گولن، نیلوکھیڑی کے رکن اسمبلی دھرم پال گوندر، چرکھی دادری سے رکن اسمبلی سوم ویر سانگوان، بادشاہ پور سے رکن اسمبلی راکیش اور جے جے پی رکن اسمبلی جوگی رام سہاگ شامل ہوئے۔


میٹنگ میں کسانوں کے ایشوز پر ان سبھی اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ہریانہ حکومت سے جلد از جلد حل نکالنے کی گزارش کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ سے ملنے کا وقت لیا گیا۔ 4 آزاد اراکین اسمبلی راکیش، نین پال راوت، رندھیر گولن اور دھرم پال گوندر وزیر اعلیٰ سے ملنے گئے۔ ان اراکین اسمبلی نے کسانوں کے ایشوز کو جلد حل کرنے کا مطالبہ وزیر اعلیٰ سے کیا۔

آزاد اراکین اسمبلی اور محکمہ سیاحت کے چیئرمین رندھیر گولن نے میٹنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج دوپہر پنچکولہ میں 5 آزاد اور ایک جے جے پی رکن اسمبلی نے کسانوں کے ایشوز پر میٹنگ کی تھی۔‘‘ گولن نے کہا کہ اس میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ کسانوں کے ایشوز پر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے چاروں اراکین اسمبلی سے ہوئی بات چیت میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر جلد مرکزی قیادت سے بات چیت کی جائے گی۔


گولن نے کہا کہ ’’ہماری وزیر اعلیٰ سے اپیل تھی کہ اس معاملے میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی جلد کسانوں کے مفاد میں فیصلہ لیں۔ میں رکن اسمبلی کے ساتھ ساتھ کسان بھی ہوں۔ کسانوں کی تحریک حکومت جلد ختم کروائے۔‘‘ گوندر نے اس تعلق سے کہا کہ ’’میرے پاس خود کی زمین تو نہیں ہے، لیکن میں نے کسانی کی ہے۔ میں کسانوں کا درد سمجھتا ہوں۔ اس معاملے میں ملک کے وزیر اعظم کو کسانوں کی بات سننی چاہیے۔‘‘ علاوہ ازیں دھرم پال گوندر نے کہا کہ یہ تحریک اب زیادہ طویل نہیں چلنی چاہیے بلکہ حکومت کو بات چیت کے ذریعہ اس کا حل نکالنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔