پرگیہ ٹھاکر نے ’شودر‘ کو ناسمجھ کہا تو جیتن رام مانجھی ہوئے آگ بگولہ، نڈّا سے کی شکایت

جیتن مانجھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ نڈا جی سے گزارش ہے بڑبولی پرگیہ ٹھاکر کو سمجھائیں کہ وہ ایس سی، ایس ٹی سماج کو بے عزت نہ کریں۔ پرگیہ ٹھاکر ہمیں نہ بتائیں کہ کون شودر ہے اور کون دہشت گرد۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

متنازعہ بیان دینے کے لیے مشہور بی جے پی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر کے ذریعہ ’شودر‘ کو ناسمجھ اور بے وقوف بتائے جانے پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور این ڈی اے کی حلیف پارٹی ’ہم‘ (ہندوستانی عوام مورچہ) کے سربراہ جیتن رام مانجھی کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی صدر جے پی نڈا سے پرگیہ کی شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کو سمجھائیں۔

جیتن رام مانجھی نے پرگیہ ٹھاکر کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں جے پی نڈّا سے مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے پرگیہ کو سمجھانے کی صلاح دی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا جی سے گزارش ہے کہ اپنی بڑبولی رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر کو سمجھائیں کہ وہ ایس سی، ایس ٹی سماج کو بے عزت نہ کریں۔ پرگیہ ٹھاکر ہمیں نہ بتائیں کہ کون شودر ہے اور کون دہشت گرد۔‘‘


واضح رہے کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر اپنی شعلہ بیانی کے لیے مشہور ہیں اور مسلمانوں کے خلاف وہ ہمیشہ زہر اگلتی رہتی ہیں۔ 14 دسمبر کو انھوں نے مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ’شودر سماج‘ کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا جس پر کافی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے سیہور میں ایک ’کشتریہ سمیلن‘ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے شودر سماج کو ’ناسمجھ‘ یعنی بے وقوف کہہ دیا تھا۔

ہندو مذہبی صحیفہ کا حوالہ دیتے ہوئے پرگیہ ٹھاکر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جب ہم کسی کشتریہ کو کشتریہ کہتے ہیں تو اسے برا نہیں لگتا ہے۔ اگر ہم کسی برہمن کو برہمن کہتے ہیں تو اسے برا نہیں لگتا ہے۔ اگر ہم کسی ویشیہ کو ویشیہ کہتے ہیں تو اسے برا نہیں لگتا ہے۔ لیکن اگر ہم کسی شودر کو شودر کہتے ہیں تو وہ برا مان جاتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ کیونکہ وہ بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔‘‘ ان کے اس بیان پر شودر سماج میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے اور جیتن رام مانجھی کو بھی ان کا یہ بیان قطعی پسند نہیں آیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 15 Dec 2020, 4:40 PM