ملک کی روایت کے خلاف بی جے پی کا ’جہاد‘… نواب علی اختر

ملک کی روایت رہی ہے کہ سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں برابر شریک ہوتے رہے ہیں مگر سیاسی مقصد کی خاطر آج بی جے پی اسے ایک زہریلا عنوان بنا کر ہنگامہ کھڑا کر نے کی سازش کر رہی ہے۔

تصویر ائی اے این ایس
تصویر ائی اے این ایس
user

نواب علی اختر

ہندوستان کی تاریخ میں اب سے کچھ پہلے تک یہی دیکھا اور محسوس کیا گیا ہے کہ عوام سے لے کر حکومتوں تک سبھی نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا ماحول پیدا کرنے والے افعال اور اعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کے برعکس امن و ہم آہنگی نیز فرقہ وارانہ یکجہتی کو زک پہنچانے والی سرگرمیوں کو وقت سے پہلے ہی ختم کردیا گیا ہے۔ کیونکہ ملک کے نوجوان دوستی اور تعلقات کی راہ میں مذہب کو حائل نہیں ہونے دیتے تھے جس کی وجہ سے بین مذاہب شادی اور دیگر تعلقات کی روایت کے سبب ہندوستان کثیر المذاہب ملک بننے اور اقوام عالم میں منفرد شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ مگر کچھ عرصہ قبل بالخصوص 2014 کے بعد ہندوستان میں جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں اس سے نوجوان طبقہ سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔

تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جہاں بھی فرقہ وارانہ یکجہتی پائی جائے گی وہاں کبھی بھی شدت پسندی سر نہیں اٹھا سکے گی، کیونکہ شدت پسند ہمیشہ منقسم سماج میں ہی اپنا شر پھیلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح ہندوستان میں بھی کیا گیا تاکہ سماج میں ایک دوسرے کے لیے نفرت پیدا کی جائے اور بین مذاہب دوستی کو دشمنی میں بدل کر اپنی تقسیم کی سازش کو کامیاب بنایا جائے۔ آر ایس ایس اور اس کی سیاسی تنظیم بی جے پی کے ساتھ دوسری ہندوتوا تنظیموں نے ان دنوں ’لو جہاد‘ کا شوشہ چھوڑ کر نیا ہنگامہ کھڑا کیا ہوا ہے۔ بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستیں تو اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کی تیاری کر رہی ہیں۔ مدھیہ پردیش، ہریانہ اور اتر پردیش ایسی ہی ریاستیں ہیں جنہوں نے لوجہاد کے خلاف قانون لانے کا عندیہ دیا ہے۔

ہندوستان میں ’لوجہاد‘ بھگوا تنظیموں کی جانب سے ایک ایسا شوشہ ہے جس کی آڑ میں اب تک درجنوں افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور ان کے خاندان والوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ شدت پسندوں کا الزام ہے کہ مسلمان مرد اپنی محبت کے دام میں غیر مسلم خواتین کو پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں جو دراصل ’لوجہاد‘ ہے۔ بی جے پی اقتدار والی کم از کم پانچ ریاستی حکومتوں نے مبینہ ’لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا ہے تاہم مرکز کی مودی حکومت، قومی خواتین کمیشن، عدالتیں اور متعدد پولس تفتیش آج تک اس دعوے کی تصدیق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی ہیں کہ مسلمان مرد ’لوجہاد‘ کر رہے ہیں اور نہ ہی حکومت’لوجہاد‘ کے حوالے سے کوئی اعداد وشمار یا اس کی واضح تعریف پیش کرسکی ہے۔

حالیہ سالوں میں’لوجہاد‘ کچھ زیادہ ہی سرخیوں میں رہا ہے اوراس کا استعمال ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کی شادی کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔ نام نہاد ہندوؤں کے ٹھیکیداروں نے بین مذاہب شادی کو ایک سازش قرار دے کر اسے’ لوجہاد‘ کا نام دے دیا، اس طرح انہوں نے لفظ جہاد کو بھی بدنام کر دیا جبکہ جہاد کا ایسے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر افسوس کہ ایک دو واقعے کو اتنا اچھال کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا جس کی آگ میں پوراملک بالخصوص اترپردیش جل جانے کو ہے مگر اس کے برعکس سینکڑوں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ معروف ہندو افراد نے مسلم لڑکی سے شادی کی ہے اسے یہ لوگ راشٹریہ ایکاتمتا (قومی یکجہتی) کا نام دیتے ہیں اور اگر کسی مسلمان نے کسی ہندو لڑکی سے شادی کر لی تو اسے لوجہاد کہا جاتا ہے یہ کون سی قومی یکجہتی ہے سمجھ میں نہیں آتا۔

اسی طرح بی جے پی کا مسلم چہرہ شاہنواز حسین اور مختار عباس نقوی کی بیویاں بھی ہندو ہیں اس پر بی جے پی نے واویلا کیوں نہیں مچایا؟ اس ملک کی یہ بھی ایک تہذیب رہی ہے کہ ہندو لڑکیاں مسلمان بنی ہیں، مسلم لڑکیاں ہندو بنی ہیں، سکھ لڑکی مسلم بنی ہے، یہ سب عشق اور پسند کا معاملہ ہے اور عشق پر کسی کا زور نہیں ہے اور نہ ہی عشق کو مذہب کی سرحدوں میں قید کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھی یہ معلوم ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی یہ روایت رہی ہے کہ سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں برابر شریک ہوتے رہے ہیں مگر سیاسی مقصد کی خاطر آج بی جے پی اسے ایک زہریلا عنوان بنا کر پیش کر کے پورے ملک میں ہنگامہ کھڑا کر دینے کی سازش کر رہی ہے۔

ہندوتوا گروپوں کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ محبت کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو لو (محبت) کے ساتھ لفظ ’جہاد‘ جوڑ کر بین مذاہب شادیوں میں یقین رکھنے والوں کے خلاف خود ’جہاد‘ میں مصروف ہیں۔ یہ خواتین کو اپنی پسند کے مطابق شادی کرنے سے روکنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ قدامت پسند ذہنیت رکھنے والے ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ہم مذہب یا ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان شادی ہی کامیاب ہوسکتی ہے، حالانکہ یہ خیال نہ صرف غلط ہے بلکہ زمینی سطح پر اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔’لوجہاد‘ کے نام پر دراصل ہندو قوم پرست اور شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی سیاسی صف بندی کرنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی با اثر ہندو۔ مسلم جوڑے کو کبھی نشانہ نہیں بناتی ہیں بلکہ وہ صرف کمزور جوڑوں کو اپنا آسان شکار سمجھتی ہیں۔

ہندو لڑکی کا مسلمان بن جانا یا مسلم لڑکی کا ہندو بن جانا یہ کسی کے روکنے اور منع کرنے سے رکنے والا نہیں ہے۔ یہ ملک کی روایت رہی ہے اور مٹھی بھر لوگ اس ملک کی قدیم روایات اور اس کی تہذیبی شناخت کو روند نہیں سکتے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں اس سلسلے کو نہ کوئی روک سکا ہے اور نہ ہی روک سکے گا۔ بی جے پی ہو یا آر ایس ایس یا پورا سنگھ پریوار کوئی کچھ نہیں کر سکتا، البتہ اسے ایک عنوان بنا کر اس ملک کی پر امن فضا کو خراب ضرور کیا جا سکتا ہے اور اپنے سیاسی مقصد کے لئے یہ لوگ ایسی سازش کر بھی رہے ہیں مگر آج بھی اس ملک کی اکثریت سیکولر ہے، یکجہتی پر یقین رکھتی ہے وہ مٹھی بھر لوگ منہ کی کھائیں گے۔ یہ صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے نفرت کی آگ جلائی جا رہی ہے مگر ہمیں یقین ہے کہ اس آگ میں ان کے منصوبے خاک ہو جائیں گے۔

next