نیٹ پیپر لیک معاملہ: سچن پائلٹ نے جان دینے والے نیٹ امیدوار پردیپ کے اہل خانہ سے کی ملاقات
سچن پائلٹ نے کہا کہ ’’پردیپ کے والد نے مزدوری کر کے، زمین بیچ کر اور قرض لے کر بیٹے کو پڑھایا تھا تاکہ وہ خاندان کا مستقبل سنوار سکے لیکن پیپر لیک نے اس کے خوابوں اور نظام پر بھروسے کو توڑ دیا۔‘‘

کانگریس لیڈر سچن پائلٹ اتوار (25 مئی) کو راجستھان کے ضلع جھنجھنو کی گڑھا باونی پنچایت پہنچے۔ وہاں انہوں نے نیٹ پیپر لیک ہونے کے سبب دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان دینے والے طالب علم پردیپ ماہیچ کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس دوران رکن پارلیمنٹ برجیندر اولا سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔ اس سے قبل راہل گاندھی بھی فون پر متاثرہ خاندان سے بات کر چکے ہیں۔
اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سچن پائلٹ نے کہا کہ ایک غریب خاندان کے نوجوان کا اس طرح خودکشی کرنا صرف ایک خاندان کے لیے ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے اور ملک کے لیے انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پردیپ کے والد نے مزدوری کر کے، زمین بیچ کر اور قرض لے کر بیٹے کو پڑھایا تھا تاکہ وہ خاندان کا مستقبل سنوار سکے، لیکن پیپر لیک نے اس کے خوابوں اور نظام پر بھروسے کو توڑ دیا۔
سچن پائلٹ نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد انتظامیہ اور پولیس کا رویہ خاندان کے ساتھ ہمدردانہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دکھ کی اس گھڑی میں خاندان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی ہے تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک کوئی عام معاملہ نہیں، بلکہ کروڑوں روپے کے منظم نیٹورک اور مافیا سے جڑا مسئلہ ہے۔ پائلٹ نے دعویٰ کیا کہ 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ اس واقعے سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کے پیچھے بڑے پیمانے پر ایک بدعنوان نظام کام کر رہا ہے۔
ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سچن پائلٹ نے سوال اٹھایا کہ جب پہلی بار پیپر لیک ہونے کی معلومات سامنے آئی تھی، تب فوری طور پر ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر طلبہ نے آواز نہ اٹھائی ہوتی تو معاملہ دبا دیا جاتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جس محکمہ میں مسلسل پیپر لیک جیسے واقعات ہو رہے ہیں، اس کے وزیر کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔ پائلٹ نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور متعلقہ ایجنسیاں پورے معاملے کی سچائی سامنے لانے سے بچ رہی ہیں اور ممکنہ طور پر کسی بڑے نیٹورک کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سچن پائلٹ نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس دکھ کی گھڑی میں خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پارٹی تنظیم کی جانب سے خاندان کو 11 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پائلٹ نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس مستقبل میں بھی خاندان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ ان کے مطابق پیپر لیک صرف قانونی جرم نہیں، بلکہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتل ہے۔
