جھارکھنڈ کے میٹرک پاس وزیر تعلیم کر رہے ’انٹر امتحان‘ کی تیاری!

وزیر تعلیم جگرناتھ مہتو دو ٹوک بات اور ٹھوس فیصلوں کے لیے مشہور ہیں، انٹر کا امتحان دینے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی عمر کیا ہے، پڑھائی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔

جگرناتھ مہتو
جگرناتھ مہتو
user

قومی آوازبیورو

جھارکھنڈ کے وزیر تعلیم جگرناتھ مہتو اس سال جھارکھنڈ اکیڈمی کونسل کے ذریعہ لیے جانے والے انٹر کے امتحان میں شامل ہوں گے۔ انھوں نے گزشتہ سال بھی اس امتحان کا فارم بھرا تھا، لیکن کووڈ انفیکشن کی وجہ سے وہ امتحان میں شامل نہیں ہو پائے تھے۔ 54 سالہ جگرناتھ مہتو ڈمری اسمبلی حلقہ سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رکن اسمبلی ہیں۔

جگرناتھ مہتو دو ٹوک باتوں اور ٹھوس فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جگرناتھ مہتو میٹرک پاس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی عمر کیا ہے۔ پڑھائی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ان کے پاس ناقدین کو جواب دینے اور شان کے ساتھ پڑھائی کرنے کا عزم ہے۔


دسمبر 2019 میں ہیمنت سورین کی قیادت میں ریاست میں نئی حکومت بنی تو انھیں کابینہ میں وزیر تعلیم کا عہدہ دیا گیا۔ کئی لوگوں نے انھیں یہ محکمہ دیے جانے پر تنقید کی، لیکن جگرناتھ مہتو کہتے ہیں کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں۔ ریاست میں گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے عارضی طور پر کام کر رہے 65 ہزار سے زیادہ اساتذہ کی سروس شرائط کا مسئلہ سلجھانے کے بعد وہ ریاست میں موضوعِ بحث ہیں۔

جگرناتھ مہتو نے اگست 2020 میں اپنے ہی اسمبلی حلقہ کے نواڈیہہ انٹر کالج میں انٹرمیڈیٹ آرٹس میں داخلہ لیا تھا، لیکن اس کے ایک مہینے بعد ہی وہ کووڈ سے سنگین طور پر متاثر ہو گئے۔ وہ طویل وقت تک قومہ میں رہے۔ انھیں ایئرلفٹ کر کے چنئی لے جایا گیا جہاں پھیپھڑے کے کامیاب ٹرانسپلانٹیشن اور تقریباً 9 ماہ چلے علاج کے بعد وہ واپس جھارکھنڈ لوٹے۔ انھوں نے واپس وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا اور ان دنوں کافی سرگرم ہیں۔


وزیر تعلیم نے کہا کہ انھوں نے اس سال انٹرمیڈیٹ امتحان کا فارم بھی بھر دیا ہے۔ انٹر کالج کے ملازمین نے ان کی رانچی واقع رہائش پر پہنچ کر فارم بھروایا۔ وزیر تعلیم کے ایک نئے اعلان پر بھی ریاست میں ان دنوں خوب بحث ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ریاست میں نویں درجہ کے سبھی طلبا کو لیپ ٹاپ دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی اجازت مل جانے پر اس اعلان پر عمل کیا جائے گا۔ لیپ ٹاپ کی تقسیم میں اے پی ایل-بی پی ایل کا کوئی چکر نہیں رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔