ہریانہ میں ای وی ایم اسٹرانگ روم بند تھا لیکن اندر گھوم رہے تھے کچھ اجنبی!

جھجر نہرو کالج واقع ای وی ایم اسٹرانگ روم کے باہر رات میں خوب ہنگامہ ہوا۔ کانگریس اور جے جے پی کارکنان کا کہنا تھا کہ وہاں اندر نگرانی کے لیے لگے سی سی ٹی وی کیمرے اور ایل ای ڈی ٹی وی بند تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہریانہ اسمبلی انتخاب کے نتائج جمعرات کو سامنے آئیں گے، لیکن اس سے پہلے کئی طرح کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ کئی مقامات سے ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ جھجر کے اسٹرانگ روم میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی بات کہی جا رہی ہے۔ کانگریس اور جے جے پی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسٹرانگ روم کے پاس اجنبی لوگ دیکھے گئے ہیں۔ اسٹرانگ روم کے دروازے سیل تھے اور اندر روشنی تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کوئی تھا۔

ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے اندیشہ کے بعد نہرو کالج واقع ای وی ایم اسٹرانگ روم کے باہر رات میں خوب ہنگامہ ہوا۔ کانگریس اور جے جے پی کارکنان کا کہنا تھا کہ وہاں اندر نگرانی کے لیے لگے سی سی ٹی وی کیمرے اور ایل ای ڈی ٹی وی بند تھے۔ جس کے بعد کارکنان نے اپنے امیدواروں کو خبر دی۔ خبر پا کر وہاں جے جے پی اور کانگریس امیدوار بھی پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ 4 گھنٹے سے اسٹرانگ روم کے کیمرے بند تھے۔ ان لیڈروں نے موقع پر جا کر دیکھا تو کیمرے و ایل ای ڈی ٹی وی بند تھے۔

کانگریس و جے جے پی کارکنان کا کہنا تھا کہ کیمرہ بند کر کے ای وی ایم میں گڑبڑی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پوچھے جانے پر انسپکٹر نے دھکا مکی بھی کی۔ ان کا الزام ہے کہ کیمرے کو بند کر کے ایک انسپکٹر اور تین انجینئر اسٹرانگ روم کے اندر رہے۔

اتنا ہی نہیں، جے جے پی اور کانگریس امیدواروں کا کہنا ہے کہ اسٹرانگ روم والی بلڈنگ میں کئی انجان لوگ بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اندر ایسے اجنبی لوگ ملے جو اپنی پہچان بھی نہیں بتا پا رہے تھے۔ وہیں سی سی ٹی وی کیمرے کے آپریٹر بھی نہیں بتا پا رہے ہیں کہ وہ کس ایجنسی سے ہیں۔ ایسے میں کانگریس اور جے جے پی کے امیدواروں نے ای وی ایم میں گڑبڑی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

Published: 23 Oct 2019, 7:00 PM