’ریلائنس ریٹیل اسٹورس‘ کھلنے کی خبر سے جموں کی تجارتی انجمنیں ناراض، 22 ستمبر کو ’جموں بند‘ کا اعلان

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جموں کے صدر ارون گپتا نے کہا کہ ’’ریلائنس اور مقامی حکومت کو سمجھ آنا چاہیے کہ وہ ایک ہزار لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں اور بیس ہزار لوگوں کو بے روزگار کر رہے ہیں۔‘‘

ریلائنس ریٹیل اسٹورس، تصویر آئی اے این ایس
ریلائنس ریٹیل اسٹورس، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جموں: جموں کی تجارتی انجمنوں نے شہر میں 'ریلائنس ریٹیل اسٹورس' کھلنے کی اطلاعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بدھوار یعنی 22 ستمبر کو 'جموں بند' کی کال دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں ریلائنس اسٹورس کے کھلنے سے 20 ہزار چھوٹے دکاندار بے روزگار ہو جائیں گے۔

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جموں کے صدر ارون گپتا نے ہفتے کو یہاں قریب دو درجن چھوٹی بڑی تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کی موجودگی میں 'جموں بند' کی کال دی۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ریلائنس اسٹورس کا کھلنا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ریلائنس اور مقامی حکومت کو سمجھ آنا چاہیے کہ وہ ایک ہزار لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں اور بیس ہزار لوگوں کو بے روزگار کر رہے ہیں'۔


ارون گپتا کا مزید کہنا تھا کہ 'ریلائنس اسٹورس میں کام کرنے والے تقریباً 70 فیصد لوگ باہر سے آئیں گے۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں چلانے والے 20 ہزار لوگوں کا بے روزگار ہونا طے ہے۔ ریلائنس کے پاس بہت سارے کام ہیں۔ وہ ان کی طرف دھیان دیں۔ جس طرح پنجاب سے ان کو بھگایا گیا اسی طرح یہاں سے بھی بھگایا جائے گا'۔

ارون گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عوامی منتخب حکومت کا نہ ہونا لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'آپ عوامی منتخب حکومت سے اپنے مطالبات کسی بھی طرح منوا سکتے ہیں۔ موجودہ افسر شاہی نظام میں تمام فیصلہ اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر کئے جاتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمارے فیصلے غلط نہیں ہو سکتے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔