آخر ایک لڑکی کو امتحان ہال میں داخل ہونے کے لیے پیروں پر کیوں لپیٹنا پڑا پردہ؟

آسام ایگریکلچر یونیورسٹی نے واقعہ کی جانچ کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، یونیورسٹی رجسٹرار تپن کمار گوہین نے کہا کہ یہ کمیٹی جانچ کرے گی اور 10 دن کے اندر رپورٹ دے گی۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

آسام میں اے اے یو (آسام ایگریکلچر یونیورسٹی) داخلہ امتحان دینے کے لیے شارٹس پہن کر پہنچی ایک 19 سالہ لڑکی کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب امتحان انسپکٹر کے ذریعہ ہال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس صورت حال سے پریشان لڑکی کو بالآخر اپنے پیروں پر پردہ لپیٹنا پڑا، تب جا کر اسے امتحان ہال میں انٹری مل سکی۔ یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور پورے معاملے کی تحقیقات بھی شروع ہو گئی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق یہ معاملہ آسام کے تیج پور میں گزشتہ بدھ کو پیش آیا جہاں 19 سالہ لڑکی بغیر کسی روک ٹوک کے امتحان ہال تک تو پہنچ گئی، لیکن وہاں موجود امتحان انسپکٹر نے اس کے شارٹس پہنے ہونے پر اعتراض ظاہر کیا اور اندر جانے سے روک دیا۔ پیروں پر پردہ لپیٹنے کے بعد اسے ہال میں انٹری تو مل گئی، لیکن اس واقعہ کی خبر جب پھیلی تو یونیورسٹی افسران نے معاملے کی جانچ کا حکم جاری کر دیا۔ حالانکہ امتحان دینے پہنچی لڑکی کے گھر والوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس معاملے کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔


اس معاملے میں لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ جب گرجانند چودھری انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز (جے آئی پی ایس) میں امتحان انسپکٹر نے ان کی بیٹی سے کہا کہ اسے شارٹس پہن کر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تو لڑکی نے افسروں کے سامنے معاملہ اٹھایا۔ والد نے بتایا کہ ایڈمٹ کارڈ میں بھی ڈریس کوڈ کا تذکرہ نہیں تھا۔ ان کی بیٹی نے یہ بھی بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے ہی شارٹس پہن کر نیٹ کے امتحان میں بیٹھی تھی، جہاں اسے کسی نے نہیں روکا تھا۔

خبروں کے مطابق جب لڑکی کے بار بار کہنے پر بھی امتحان ہال میں انٹری نہیں ملی تو وہ امتحان سنٹر کے باہر موجود اپنے والد کے پاس پہنچی اور پوری بات بتائی۔ اس پر لڑکی کے والد ٹراؤزر خریدنے کے لیے اسی وقت پاس کے بازار چلے گئے۔ جب تک والد لوٹتے تب تک افسروں نے پیر چھپانے کے لیے لڑکی کو ایک پردہ دستیاب کرا دیا تھا۔ لڑکی نے اس پردے کو اپنے پیروں میں لپیٹا اور پھر امتحان ہال میں داخل ہوئی۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ’’میری بیٹی گھبرا گئی تھی اور اس نے اس ہتک آمیز واقعہ کے بارے میں کچھ مقامی صحافیوں سے بات کی تھی، لیکن یہ بات سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ کئی لوگوں نے واقعہ کی مذمت کی، لیکن کئی نے میری بیٹی پر ہی نشانہ بنایا، جس سے وہ ذہنی طور سے پریشان ہو گئی ہے۔‘‘


اس درمیان یونیورسٹی نے واقعہ کی جانچ کے لیے 3 اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یونیورسٹی رجسٹرار تپن کمار گوہین نے کہا کہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈین کی قیادت میں کمیٹی جانچ کرے گی اور 10 دن کے اندر رپورٹ دے گی۔ انھوں نے کہا کہ اے اے یو نے امتحان دہندگان کے لیے کوئی ڈریس کوڈ نافذ نہیں کیا تھا۔ کئی لوگوں نے واقعہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کانگریس ترجمان ببیتا سرما نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ذہنیت لڑکیوں کی سیکورٹی کے لیے خطرناک ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔