کانگریس نے کیا جموں و کشمیر میں بی ڈی سی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

کانگریس کے ریاستی صدر نے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کو ‘سلیکشن’ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈران کو جان بوجھ کر نظر بند رکھا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے اپنی جماعت کے لیڈران کی مسلسل نظربندی کے احتجاج میں رواں ماہ ہونے والے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کبھی بھی بائیکاٹ کی سیاست کی حامی نہیں رہی ہے لیکن یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہے۔

غلام احمد میر نے بدھ کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'کانگریسی کبھی بھی بائیکاٹی پارٹی نہیں رہی ہے۔ ہم نے جمہوری عمل کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ آج ان حالات میں جب انہوں نے ہم پر الیکشن تھوپا ہے تو ہم نے معاملے پر غور وخوض کیا۔ چناہ ایک آدمی کے کہنے پر نہیں ہوتے ہیں۔ ان انتخابات کے لئے کانگریس پارٹی کے کم از کم 150 لیڈران کا کردار ضروری ہے جن میں سے 70 سے 80 لیڈر ابھی بھی نظر بند ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے بار بار اپیل کی کہ لیڈران کو رہا کرو اور مواصلاتی خدمات کو بحال کرو تاکہ ہمارے لیڈران زمینی سطح پر انتخابی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ ہم نے کل شام تک انتظار کیا۔ جب حکومت نے ہمارے لیڈران کو رہا کرنے کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تو ایسے میں ہمارا انتخابی عمل میں اترنا مناسب نہیں تھا'۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کو 'سلیکشن' کا نام دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈران کو جان بوجھ کر نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'ریاست کے بیشتر حصوں میں حالات ابھی سیاسی سرگرمیاں چلانے کے موافق نہیں ہیں۔ ہمارے ہتھیار ہمارے لیڈران ہیں۔ حکومت ہمیں گھروں تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔ یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے'۔
غلام احمد میر نے کہا کہ سابقہ بی جے پی-پی ڈی پی حکومت نے پنچایتی راج کو تقریباً ختم کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 'جس طرح ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بانٹا گیا، جو ہمارے درجات تھے ان کو چھینا گیا۔ ملک میں جموں وکشمیر وہ واحد ریاست نہیں تھی جس کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ اس وقت بھی ملک میں دس وہ ریاستیں ہیں جو خصوصی اختیارات رکھتی ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'جب اس ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت وجود میں آئی، انہوں نے اپنی حکومت کے دوران پنچایتی راج کو ختم کردیا تھا۔ ہمیں اس وقت کے گورنر این این ووہرا کے سامنے دھرنا دینا پڑا تھا جنہوں نے بی جے پی و پی ڈی پی حکومت کے فیصلے کو واپس لیا تھا'۔

قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ نے وادی میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان اور تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہ چکے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر میں بند رکھا گیا ہے۔ علیحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔