جموں و کشمیر: نیشنل کانفرنس نے ’سیاسی قیدیوں‘ کی فوری رہائی کا کیا مطالبہ

محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی نے مزید کہا کہ سیاسی انتقام گیری کی بنا پر کسی بھی فرد کی انفرادی آزادی پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی ہے، یہ آئین اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے قیدیوں خصوصاً سیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں لیڈران نے کہا کہ کشمیر کے سیاسی لیڈران کو نشانہ بنانا، تنگ طلب کرنا اور بلاجواز طریقے پر نظربند رکھنا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لیڈران کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک روا رکھنا ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی لیڈران کی نظربندی اور تنگ طلبی سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام لوگوں کو کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا۔ سیاسی مخالفین کی بلاوجہ تنگ طلبی اور بلاجواز نظربند ی کسی بھی جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہوسکتی۔

اکبر لون اور حسنین مسعودی نے مزید کہا کہ سیاسی انتقام گیری کی بنا پر کسی بھی فرد کی انفرادی آزادی پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی ہے، یہ آئین اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ این سی لیڈران نے کہا کہ جیلوں میں مقید سیاسی لیڈران یا عام قیدیوں میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کی صحت انتہائی خراب ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاسی قیدیوں کے علاوہ اُن افراد کی رہائی فوری طور پر یقینی بنائے جن کے خلاف سنجیدہ نوعیت کے معاملے درج نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next