بلدیاتی انتخابات: کشمیر میں کانگریس اور جموں میں بی جی کو برتری حاصل

جموں و کشمیر بلدیاتی انتخابات کے نتائج بڑی اسکرین پر دیکھتے ہوئے لوگ

ایس ایم سی میں بھاجپا 4، کانگریس 16 اور آزاد امیدوار53 حلقوں میں کامیاب رہے ہیں۔ سری نگر کے میئر کے انتخاب میں آزاد امیدواروں کا نمایاں کردار رہے گا۔

سری نگر: جموں وکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے مطابق وادی کشمیر بشمول خطہ لداخ کے 624 بلدیاتی حلقوں میں سے کانگریس نے 157، بھارتیہ جنتا پارٹی نے 100 اور آزاد امیدواروں نے 178 حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 185 بلدیاتی حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی امیدوار سامنے نہیں آئے۔

نتائج کے مطابق بھاجپا کے 24 اور کانگریس کے 79 امیدوار مقابلہ کر کے کامیاب ہوئے ہیں۔ مقابلہ کر کے جیت حاصل کرنے والے آزاد امیدواروں کی تعداد 103 ہے۔ بھاجپا کے 76، کانگریس کے 78 اور 75 آزاد امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے ہیں۔ سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے 74 میں سے 66 حلقوں کے لئے مقابلہ ہوا۔

انتخابی نتائج کے مطابق ایس ایم سی میں بھاجپا نے 4، کانگریس نے 16 اور آزاد امیدواروں نے 53 بلدیاتی حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بھاجپا یا کانگریس میں سے کسی کو واضح برتری نہ ملنے کی وجہ سے سری نگر کے میئر کے انتخاب میں آزاد امیدواروں کا نمایاں کردار رہے گا۔ صوبہ جموں کے 520 بلدیاتی حلقوں میں سے بی جے پی نے 212، کانگریس نے 110، جموں وکشمیر پنتھرس پارٹی نے 13 اور آزاد امیدواروں نے 185 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) کے 75 بلدیاتی حلقوں میں سے بھاجپا نے 43، کانگریس نے 14 اور آزاد امیدواروں نے 18 حلقے جیتے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل ہفتہ کی صبح آٹھ بجے سے سہ پہر تک جاری رہا۔ ایس ایم سی کے لئے ڈالے گئے ووٹ شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر جبکہ جے ایم سی کے لئے ڈالے گئے ووٹ جموں میں بکرم چوک کے نزدیک واقع پالی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ میں گنے گئے۔ باقی 20 اضلاع کے قصبوں کے لئے ڈالے گئے ووٹ متعلقہ ضلع ہیڈکوارٹروں میں گنے گئے۔

بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کا عمل 16 اکتوبر کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کے دوران جہاں صوبہ جموں کے دس اضلاع اور خطہ لداخ کے دو اضلاع میں لوگوں نے انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، وہیں وادی کے سبھی دس اضلاع میں لوگوں کی جانب سے انتخابات کا مثالی بائیکاٹ کیا گیا۔

ریاست میں قریب 13 برس بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا۔ ریاست میں اس سے قبل سنہ 2005 میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے۔ ان میں بیلٹ پیپر کا استعمال کرکے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ سنہ 2005 میں بننے والے بلدیاتی اداروں کی مدت سنہ 2010 میں ختم ہوئی تھی۔

باقی 412 بلدیاتی حلقوں (68 اعشاریہ 8 فیصد حلقوں) کے لئے کوئی پولنگ نہیں ہوئی۔ ان 412 بلدیاتی حلقوں میں سے 181 حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی انتخابات لڑنے کے لئے کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ 231 بلدیاتی حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے امیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔

انتخابی کمیشن کے مطابق 40 بلدیاتی اداروں میں سے 27 بلدیاتی اداروں کے لئے کوئی پولنگ نہیں ہوئی۔ وادی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران کوئی انتخابی مہم دیکھنے کو نہیں آئی۔ اہلیان کشمیر انتخابات سے اس قدر لاتعلق رہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے حلقے میں کون لوگ انتخابی میدان میں ہیں۔ کچھ ایک جگہیں ایسی تھیں جہاں انتخابی میدان میں اترنے والے امیدواروں کی معلومات مخفی رکھی گئیں۔

سب سے زیادہ مقبول