امریکہ کے ساتھ تجارتی تنازعات کے درمیان جے شنکر کا بڑا بیان،’معیشت پر حاوی ہورہی سیاست‘

ایس جے شنکر نے کہا کہ آج کے حالات میں ہندوستان کے لیے یہ اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ وہ اپنی قومی ضروریات کو محفوظ رکھنے کے لئے سپلائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرے تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار نہ رہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایس جے شنکر، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جاری عالمی تجارتی کشیدگی کے درمیان امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سیاست، معیشت پرلگاتار حاوی ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے اسے’غیر یقینی دنیا‘ کا وقت قرار دیا۔ جے شنکر نے یہ بات ہفتہ کے روزکولکتہ میں آئی آئی ایم کلکتہ سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کہی۔

انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں ہندوستان کے لیے یہ اوربھی زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ وہ اپنی قومی ضروریات کو محفوظ رکھنے کے لئے سپلائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرے تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار نہ رہے۔ جے شنکر کا یہ بیان حالیہ تجارتی تنازعات اور امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ہندوستانی درآمدات پرلگائے گئے 50 فیصد ٹیرف کے تناظر میں آیا ہے۔


جے شنکر نے کہا کہ امریکہ، جو طویل عرصے سے عالمی نظام کا سہارا رہا ہے، اب ایک ایک کر کے ممالک کے ساتھ نئی شرائط پر بات کر رہا ہے۔ یہ عالمی تجارت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت دو سطحوں پربات چیت چل رہی ہے۔ ایک ٹیرف سے متعلق معاملات پر اور دوسری جامع تجارتی معاہدے پر۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تجارت کو بڑھانے اور طویل عرصہ سے مارکیٹ سے متعلق چل رہی رکاوٹوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو ہندوستان کی برآمدات میں توقع سے کم کمی آئی ہے۔ وہیں حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان 50 فیصد ٹیرف کے منفی اثرات سے محفوظ رہا ہے اور بہتر معاہدے کا انتظار کرنے کے لئے تیار ہے۔


دونوں ممالک کا مقصد سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 191 ارب ڈالر سے بڑھا کر 500 ارب ڈالر کرنا ہے۔ امریکہ ہندوستان کی زرعی اور ہائی ٹیک منڈیوں تک زیادہ رسائی چاہتا ہے۔ اس دوران ہندوستان اپنے پیشہ ور افراد کے لیے بہتر نقل و حرکت اور ڈیجیٹل تجارت کے لیے واضح قوانین کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔