مودی کے دورہ چین پر جے رام رمیش کا تبصرہ- ’ہندوستان کو بیجنگ کی شرائط پر تعلقات معمول پر لانے پر مجبور کیا جا رہا‘
جے رام رمیش نے مودی کے دورہ چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو بیجنگ کی شرائط پر تعلقات بحال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ’آپریشن سندور‘ اور منی پور بحران کا بھی ذکر کیا

کانگریس کے سینئر رہنما اور پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کے چین کے مجوزہ دورے پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان کو چین کے ساتھ تعلقات کو اس کی شرائط پر معمول پر لانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ ہندوستان کے لیے نہایت تشویش ناک اور کمزور موقف ہے، جو قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی خطرناک ہے۔
وزیراعظم مودی اس وقت جاپان کے دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں سے وہ چین روانہ ہوں گے اور وہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سالانہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔
جے رام رمیش نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم اکثر غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چین کا یہ دورہ ایک نہایت اہم موقع ہے کیونکہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فوجی اداروں نے خود انکشاف کیا تھا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ تال میل میں کام کر رہے تھے لیکن اب یہ معاملہ گویا فراموش کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس پس منظر میں مودی کا چین جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کانگریس رہنما نے وزیراعظم کے 19 جون 2020 کے اس بیان کو بھی یاد دلایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’نہ کوئی ہماری سرحد میں گھسا ہے اور نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے۔‘‘ رمیش کے مطابق یہ بیان ہندوستان کی سفارتی اور مذاکراتی پوزیشن کو سخت کمزور کر گیا اور آج کی مشکل صورتِ حال اسی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے منی پور کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مئی 2023 کے تشدد کے بعد سے وہاں کے لوگ وزیراعظم کے دورے کے منتظر ہیں تاکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے لیکن وزیراعظم نہ تو ریاستی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی عوامی نمائندوں یا شہری تنظیموں سے۔
جے رام رمیش کے مطابق منی پور کو وزیراعظم نے بالکل اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور یہ حقیقت وزیر داخلہ امیت شاہ کی ناکامی کا زندہ ثبوت ہے۔
جے رام رمیش کے ان بیانات نے ایک بار پھر مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور اندرونی چیلنجز پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں نرمی یا پسپائی ہندوستان کی خودمختاری کے لیے کسی طور درست نہیں ہو سکتی اور حکومت کو عوام کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ کس بنیاد پر یہ قدم اٹھا رہی ہے۔