’برکس صدارت کے باوجود ایران پر حملوں کے معاملے میں اجتماعی بیان کیوں جاری نہیں ہوا؟‘، جے رام رمیش کا مودی حکومت پر سوال

جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اب تک برکس پلس کا کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر ہندوستان کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے برکس پلس کی موجودہ صدارت کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں کے معاملے میں ہندوستان نے اب تک کسی مشترکہ بیان کی قیادت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب 2025 میں برازیل کے پاس برکس پلس کی صدارت تھی تو اس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد تمام 11 رکن ممالک کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کرایا تھا۔

جے رام رمیش کے مطابق اب جبکہ 2026 میں برکس پلس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے، اس کے باوجود ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی پر کوئی اجتماعی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ہدف بنا کر کی جانے والی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی ہے، جبکہ ایران نے بھی خلیجی ممالک کے علاقوں میں غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بحرِ ہند میں، جو ہندوستان اور سری لنکا کے قریب واقع ہے، امریکی بحریہ کی سرگرمیوں کو بھی انہوں نے تشویشناک قرار دیا۔


انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خوش رکھنے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش میں برکس پلس کی صدارت کے وقار کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی خاموشی ہندوستان کے عالمی کردار پر سوال کھڑے کرتی ہے۔

جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں برکس ممالک کی جانب سے ایران پر 13 جون 2025 سے ہونے والے فوجی حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور عالمی معیشت دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کے حل کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ پرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں اور اس سے انسانی جانوں اور ماحول کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بیان میں شہریوں کے تحفظ، انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری اور مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی برکس ممالک نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔