جے رام رمیش کا مودی حکومت پر سخت حملہ، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ’چوری‘ قرار دیا
جے رام رمیش نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کو ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’چوری‘ اور سفارت کاری کی ناکامی قرار دیا

ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اس معاہدے کو ملک کے مفادات کے خلاف قرار دیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ متعدد آزاد تجزیہ کاروں اور مبصرین، جنہیں مودی مخالف نہیں سمجھا جاتا، نے بھی اس تجارتی معاہدے کو غیر متوازن اور یک طرفہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیل میں ہندوستان نے جتنا حاصل کیا ہے، اس کے مقابلے میں امریکہ نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات کے عوامی اظہار کے باوجود ہندوستان کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر قربت دکھانے اور سفارتی محاذ پر سرگرمیوں کے باوجود معاہدے کی شرائط ہندوستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوئیں۔
جے رام رمیش نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس تجارتی معاہدے کو ’چوری‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت کی سفارت کاری کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہے جتنا بھی وضاحتی بیانیہ پیش کرے، حقیقت یہی ہے کہ اس معاہدے میں ہندوستان کو نقصان پہنچا ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے تاکہ اس پر کھل کر بحث ہو سکے اور ملک کے مفادات کا جائزہ لیا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔