بیت الخلاء کو توڑنے کے لئے بھی ’جے شری رام‘ کے نعرے کا استعمال!... نواب علی اختر

یہ لوگ پولیس یا انتظامی نظام میں شکایت کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ ان کے لئے اب ان کا نظریہ ہی آئین ہے۔ ان کا رہنما ہی ملک ہے اور اس کے خلاف کچھ بھی کہنا ملک غداری ہے۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

نواب علی اختر

تین دہائی قبل (بابری مسجد انہدام سے پہلے) کسی شخص کو شاذو نادر ہی ’جے شری رام‘ کہتے سنا گیا ہوگا یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی بھیڑ میں ’جے شری رام‘ کہنا معیوب سمجھا جاتا تھا، مگر 6 دسمبر 1992 ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب فرقہ پرستوں کی بھیڑ نے بابری مسجد پر چڑھائی کر کے صدیوں پرانی اس تاریخی عبادت گاہ کو مسمار کرنے کے لیے ہتھوڑا چلایا تب ’رام‘ کا نام استعمال کرکے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگایا جا رہا تھا اور تبھی سے فرقہ پرست عناصر نے اس نعرے کو اقلیتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا جو آج ایک فیش بن گیا ہے اور جہاں بھی کمزور اور بے جان کے سامنے اپنی ’مردانگی‘ دکھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہاں ’جے شری رام‘ بول کر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ شروع کردی جاتی ہے۔

’جے شری رام‘ کا نعرہ لگا کرعبادت گاہ کو مسمار کرکے بہادری سمجھنے والے فرقہ پرست عناصر آج اس سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ ایک بیت الخلاء کو توڑنے کے لئے بھی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ حال ہی میں فرقہ وارانہ طور پر حساس اترپردیش کے سہارنپور میں بس اڈے پر بنے ایک عوامی بیت الخلاء کو توڑنے پہنچی بھیڑ نے ’جے شری رام‘ کے نام پر یہ کام کیا۔ بیت الخلاء پر پڑنے والے ہر ہتھوڑے کی تھاپ پر لوگ ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ پتہ چلا کہ ’راشٹر بھکتی‘ کے ٹھیکیدار بجرنگ دل کے کارکنوں نے یہ ’بہادری‘ بھرا کام کیا تھا۔ ان کی دلیل تھی کہ بیت الخلاء ایک مندر کے برابر میں تھا اس لئے اسے توڑنا ضروری تھا۔ حالانکہ مندر میں آنے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے پجاری کو بھی بیت الخلا پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس تازہ واقعہ نے ان خود ساختہ راشٹر بھکتوں کی کم ظرفی اور گھٹیا سوچ کو اجاگر کیا ہے جنہیں پولیس انتظامیہ کا رول نبھانے میں مزہ آنے لگا ہے۔ مجموعی طور پر یہ رویہ انتہائی خوفناک ہے اس لئے کہ وہ کبھی بھی کسی کے بھی گھر میں گائے کا گوشت تلاش کرنے کے لئے گھس جاتے ہیں اور کبھی کسی غریب کے گھر میں ’ٹھاکر‘ لکھے جوتے نکلوا کر اسے پولیس تک پہنچاتے ہیں اور کبھی خود بیت الخلاء توڑنے کے لئے ہتھوڑا اٹھا لیتے ہیں۔ یہ رویہ نظم ونسق کو اپنے ہاتھ میں لینے کا عام محاورہ نہیں ہے بلکہ یہ خود کو نظم ونسق سمجھنے کا مسلسل سامنے آنے والا ایک تجربہ ہے اس لئے یہ لوگ پولیس یا انتظامی نظام میں شکایت کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ ان کے لئے اب ان کا نظریہ ہی آئین ہے۔ ان کا رہنما ہی ملک ہے اور اس کے خلاف کچھ بھی کہنا غداری ہے۔

اس واقعہ کا سب سے خطرناک پہلو ایک بیمار ذہنیت ہے جو اس معاملے میں سامنے آئی ہے۔ بیت الخلاء توڑنا ہی تھا تو اس کے لئے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا کسی اور نعرے سے یہ کام نہیں ہوسکتا تھا؟۔ ایسے لوگوں کے طرزعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں پر بیت الخلاء توڑنے سے زیادہ اشتعال انگیز نعرے لگا کر تشدد بھڑکانا تھا مگرعلاقے کے دانشمند عوام نے فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیزی پر کوئی ردعمل کا اظہار نہ کرکے علاقے کے امن کو برقرار رکھنے میں اہم کردارادا کیا ہے۔ ایسے حالات میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ آخر ان جاہل فرقہ پرستوں کو اتنی ہمت کہاں سے ملتی ہے جو خود کو پولیس اور آئین سے بالاتر سمجھ کر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ہر ہندوستانی کو معلوم ہوگا مگر سب کو اپنی جان پیاری ہے۔

دیکھا جاے تو پچھلے کچھ عرصہ میں فرقہ پرستوں کو متحد کرنے اور اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے’جے شری رام‘ جیسے نعروں کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ کچھ دن پہلے ایسے ہی نعروں اور گالی گلوچ کے درمیان ایک موٹر سائیکل ریلی نکلی تھی۔ ظاہر ہے یہ وہ ’رام ‘ نہیں ہیں جن سے لوگوں کی عقیدت ہے، یہ وہ رام ہیں جن کا استعمال ایک فرقہ پرست بھیڑ کو تشدد بھڑکانے کے ہتھیار کے طور پر ہوتا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ جب لوگ ’رام‘ کے اس طرح کے استعمال پر انگلی اٹھاتے ہیں تو انہیں ہندو مخالف، رام مخالف کہنے کے ساتھ ساتھ ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ صاف طور پر یہ بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کو بہت راس آتا ہے کیوںکہ اس سے انہیں غیر ہندو کو الگ کرنے یا انہیں غیر بتانے کا موقع ملتا ہے۔ ’جے شری رام‘ ایک روایتی نعرہ ہے جو اب تشدد بھڑکانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان حالات میں انسانیت کے دشمن فرقہ پرستوں کو سمجھانا ہوگا کہ جب روایت کو سیاست کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جب مذہبیت اورعقیدت کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے تشدد میں بدلا جاتا ہے تو رام کا نام بھی چھوٹا ہوجاتا ہے۔ ’جے شری رام‘ ایک ہتھوڑا بن جاتا ہے جس کا استعمال بیت الخلاء توڑنے میں نعرے کی طرح بھی کیا جاسکتا ہے۔ سچ تویہ ہے کہ اس فعل نے ’رام‘ پرعقیدت رکھنے والوں کو مایوس کیا ہے۔ ان فرقہ پرستوں کے قائدین کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ چند بگڑے لوگوں کی وجہ سے آج جہاں تک بھی دیکھا جائے ملک کو شدید منحوس بحران کا سامنا ہے۔ فرقہ واریت کو بعض مفاد پرست عناصر کی جانب سے لگاتار ہوا دی جا رہی ہے اور فرقہ واریت کا یہ وائرس اب ملک کے دیہی علاقوں تک پہنچ چکا ہے جبکہ پہلے یہ صرف شہروں میں ہوا کرتا تھا۔

آخر یہ سب کیوں اور کب سے ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ ہم نے تو یہی سنا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ہندوستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال دیتے تھے مگر اب ہندوستان میں اچانک کیا ہوگیا جب لوگ ہندو اور مسلمان کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ حکمرانوں کی بات نہ بھی کریں تب بھی پچھلے کچھ سالوں میں اصل مسائل کو نظر انداز کر کے فرقہ واریت کے موضوع پر معتبر چینلوں پر جو بحثیں ہوئیں انہوں نے فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ انتہا پسند اپنے نقطہ نظر کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی ’راشٹر بھکتی‘ سمجھنے لگے ہیں۔ انتہا پسند در حقیقت، مخالف یا متحارب نقطہ نظر کو برداشت نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ اسے نیست و نابود کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہر انتہا پسند فرقہ پرست ہوتا ہے اور ہر فرقہ پرست انتہا پسند۔ یہ لوگ رنگا رنگی کے خلاف ہیں اور اختلافات کو برداشت کرنے کی بجائے طاقت سے مٹانا چاہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Jan 2021, 5:11 PM
next