جہانگیر پوری انہدامی کارروائی: حکومت نے غریبوں کے گھر اجاڑ کر ان کے پیٹ پر لات ماری، اجے ماکن

ماکن نے کانگریس کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے آج جہانگیر پوری کا دورہ کیا اور ان متاثرین سے ملاقات کرنے کی کوشش کی جن کے گھر بدھ کے روز غیرقانونی بتاکر بلڈوزر چلاکر منہدم کئے گئے تھے۔

تصویر قومی آواز / وپن
تصویر قومی آواز / وپن
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری اجے ماکن نے جمعرات کو کہا کہ جہانگیر پوری میں بلڈوزر چلانے کا واقعہ غریب کے پیٹ پر لات مارنا ہے اور اس کو مذہب کے چشمہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ مہنگائی اور بے روزگاری سے توجہ ہٹانے کے لئے سازش کے تحت یہ کارروائی کی گئی ہے۔

ماکن نے کانگریس کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے آج جہانگیر پوری کا دورہ کیا اور ان متاثرین سے ملاقات کرنے کی کوشش کی جن کے گھر بدھ کے روز غیرقانونی بتاکر بلڈوزر چلاکر منہدم کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ایک وفد کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے وہ جہانگیر پوری آئے ہیں اور متاثرین سے ملاقات کے بعد واقعہ سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو سونپیں گے۔ ان کے ساتھ گئے وفد میں دہلی پردیش کانگریس پارٹی کے لیڈران بھی شامل ہیں۔


ماکن نے کہا کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں جو کچھ ہوا ہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور عام آدمی پارٹی کی ساز باز کی انتہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے جان بوجھ کر اس طرح کی سازش کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن نے جہانگیر پوری میں جو بھی کارروائی کی ہے وہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 2019 کا عدالتی حکم ساتھ لیکر آئے ہیں جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ بغیر نوٹس کے کسی بھی غیرقانونی تعمیرات کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے لئے دہلی میونسپل کارپوریشن کے اس کام کو مذہب کے چشمہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ یہ سیدھے غریب کے پیٹ پر چوٹ ہے اور بے روزگاری اور مہنگائی سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔ مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اس واقعہ کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے۔ عدالت کے حکم اور حکومت کی پالیسیوں میں کہیں بھی نہیں ہے کہ غریب کے گھر اس طرح بغیر نوٹس کے توڑے جائیں۔


کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ ان کے پاس سال 1991 اور 2015 کا حکم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام کو تب تک غیرقانونی تعمیرات کے نام پر توڑا نہیں جاسکتا ہے جب تک لیفٹننٹ گورنر کی مذہبی کمیٹی اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت میں سٹی ہاوسنگ کے وزیر رہے ہیں اور ان کی قیادت میں تب قانون بنایا گیا تھا کہ کسی بھی ریہڑی پٹری کو سروے کئے بغیر اجاڑا نہیں جاسکتا ہے۔

ماکن نے نامہ نگاروں کے سوال پر کہا کہ ان کے ساتھ آئے وفد کو پولیس کا مکمل تعاون مل رہا ہے اور وہ جلد ہی ان لوگوں سے ملاقات کریں گے جن کے گھر اجاڑے گئے ہیں۔ بعد میں دہلی پردیش کانگریس کی ایک لیڈر نے کہا کہ پہلے ان کے ساتھ پولیس نے تعاون کیا، لیکن بعد میں کانگریس کے وفد کو متاثرین سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ ماکن نے کہا کہ حکومت نے غریبوں کے گھروں کو اجاڑ کر ان کے پیٹ پر لات ماری ہے لیکن انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ کا نوٹس لیا اور بی جے پی حکومت نے جو غریبوں کے مارنے کی سوچی سمجھی سازش کی تھی اسے عدالت عظمی کی مداخلت سے روکا جاسکا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Apr 2022, 5:40 PM
;