آسام میں ’بیف‘ خریدنا اور بیچنا ہوگا مشکل، مویشی تحفظ بل 2021 اسمبلی میں پیش

نئے قانون کا مقصد یہ یقینی کرنا ہے کہ مویشیوں کے ذبیحہ کی ان علاقوں میں اجازت نہیں دی جائے جہاں خاص طور سے ہندو، جین، سکھ اور بیف نہیں کھانے والے طبقات رہتے ہیں۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

بڑھتی آبادی کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے والے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اب ریاستی اسمبلی میں آسام مویشی تحفظ بل 2021 پیش کر دیا ہے، جس کے منظور ہونے پر ریاست میں بیف خریدنا اور بیچنا دونوں کافی مشکل ہو جائے گا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے بجٹ سیشن کے پہلے دن اسمبلی میں یہ بل پیش کیا جس میں اتر پردیش جیسے بی جے پی حکمراں ریاستوں میں اسی طرح کے قوانین کی طرز پر ریاست میں گائے تحفظ قانون لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ نئے قانون میں ریاست میں مویشیوں کے ذبیحہ، کھانے، ٹرانسپورٹیشن کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانونی ضوابط شامل ہیں۔

آسام مویشی تحفظ بل 2021 کے مطابق مناسب دستاویز کی عدم موجودگی میں مویشیوں کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور آسام کے باہر ٹرانسپورٹیشن کو بھی غیر قانونی قرار دیئے جانے کی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ایک نیا قانون بنانے اور قبل کے آسام مویشی تحفظ ایکٹ 1950 کو ختم کرنے کی ضرورت تھی جس میں مویشیوں کے قتل یا ذبیحہ، استعمال اور ٹرانسپورٹیشن کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ضروری قانونی ضوابط کی کمی تھی۔


کیرالہ اسمبلی میں پیش کردہ بل کے مطابق کوئی بھی شخص کسی دیگر ریاست کی کسی بھی جگہ سے ریاست کے اندر کسی بھی جگہ پر کسی بھی مویشی کو ٹرانسپورٹ کے لیے نہیں لے جائے گا، جس کا قتل اس ایکٹ کے تحت قابل سزا ہے۔ اہل افسر اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق حقیقی زراعت یا مویشی پروری مقاصد کے لیے مویشیوں کے ٹرانسپورٹیشن سے متعلق پرمٹ جاری کر سکتا ہے۔ مویشی انسداد ظلم ایکٹ 1960 کے تحت مویشیوں کے ٹرانسپورٹیشن کو کنٹرول کرنے والے مرکزی حکومت کے قوانین کے ذریعہ مقرر کردہ طریقے سے مویشیوں کا ٹرانسپورٹیشن کیا جائے گا۔

آسام مویشی تحفظ بل 2021 میں بوچڑخانہ کے علاوہ دیگر مقامات پر مویشیوں کے ذبیحہ پر روک لگانے، بیف اور بیف سے بنی مصنوعات کی فروخت پر روک لگانے کی تجویز ہے۔ بل کے تحت کوئی بھی شخص بالواسطہ یا بلاواسطہ طور سے فروخت یا پیشکش یا فروخت کے لیے ظاہر نہیں کرے گا یا اہل افسر کے ذریعہ ایسا کرنے کی اجازت کے علاوہ کسی بھی شکل میں بیف یا بیف سے بنی مصنوعات نہیں خریدے گا۔ نئے قانون کا مقصد یہ یقینی کرنا ہے کہ مویشیوں کے ذبیحہ کی ان علاقوں میں اجازت نہیں دی جائے جہاں خاص طور سے ہندو، جین، سکھ اور بیف نہیں کھانے والے طبقات رہتے ہیں یا وہ جگہ کسی مندر اور افسران کے ذریعہ مقررہ کسی دیگر ادارہ کے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔ حالانکہ کچھ مذہبی مواقع کے لیے اس میں چھوٹ دی جا سکتی ہے۔


میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بل کی خلاف ورزی کرنے پر کم از کم 3 سال کی قید ہو سکتی ہے۔ یہ مدت 8 سال تک ہو سکتی ہے۔ حکم امتناع کے تحت جرمانے کی ادائیگی کرنا ہوگی جو تین لاکھ روپے سے کم نہیں ہوگی اور پانچ لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے، یا دونوں ہی سزا ملے گی۔ بل میں مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے گئوشالہ سمیت ایک ادارہ کے قیام کی بھی تجویز ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کسی مقامی اتھارٹی یا سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1960 یا کسی مرکزی ایکٹ یا کسی ایسو سی ایشن یا تنظیم کے تحت رجسٹرڈ سوسائٹی کو ایسے مقامات پر گئوشالاؤں سمیت ایک ادارہ قائم کرنے کے لیے قائم یا ہدایت کر سکتی ہے، جسے دیکھ بھال کے لیے ضروری سمجھا جا سکتا ہے۔ مویشیوں کو اس میں رکھا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔