چینی ملیں بند ہونے کے لئے بی ایس پی کو مورد الزام ٹھہرانا غلط: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ اترپردیش میں بی ایس پی حکومت میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی حکومت میں یہاں کی کافی چینی ملیں بند چل رہی تھیں اور انہیں میں سے کچھ چینی ملیں ہٹائی گئیں تھیں۔

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے سابقہ حکومتوں میں مغربی اترپردیش کی چینی ملیں بند ہونے کے بی جے پی کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں پہلے سے بند پڑی ملوں کو ہی ہٹایا گیا تھاـ مایاوتی نے اتوار کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا ’اترپردیش میں بی ایس پی حکومت میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی حکومت میں یہاں کی کافی چینی ملیں بند چل رہی تھیں اور انہیں میں سے کچھ چینی ملیں ہٹائی گئیں تھیں۔ لیکن اسے لے کر زبردستی سابقہ حکومتوں کی خامیاں بی ایس پی کی حکومت پر تھوپنا ٹھیک نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی صدر نے جے پی نڈا، وزیر اعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ کچھ دنوں سے ریاست میں چینی ملیں بند ہونے کا الزام ایس پی۔ بی ایس پی حکومتوں پر لگا رہے ہیں۔ مایاوتی نے اس کے جواب میں کہا ’ساتھ ہی، ابھی حال ہی میں بندیل کھنڈ میں یوریا کی کمی کے سلسلے میں وہاں جو کسان سڑکوں پر اترے، اس کا الزام بھی دوسروں پر تھوپنا مناسب نہیں ہے۔ بلکہ بی ایس پی کی حکومتوں میں کسانوں کا ہر معاملے میں پورا پورا دھیان رکھا گیا تھا۔ جسے کسان بھولے نہیں ہیں‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔