ای ڈی کیا صرف حزب اختلاف کے لئے ہے؟

کانگریس ترجمان گورو بلبھ نے سوال کیا کہ کیا ای ڈی نے کبھی ایشورپا کو فون کر کے پوچھا کہ 40 فیصد کمیشن کا کیا معاملہ ہے جس کے بارے میں کرناٹک کے کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چیئرمین نے پریس کانفرنس میں کہا؟

گورو بلبھ، تصویر یو این آئی
گورو بلبھ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے سوال کیا کہ انفورسمنٹ ڈاریکٹریٹ اڈانی اور بی جے پی سے جڑے لوگوں سے پوچھ تاچھ کیوں نہیں کرتا۔ کانگریس کے ترجمان گورو بلبھ نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’پچھلے دو ہفتوں میں دیکھا گیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ آج حکومت کے 'انفورسڈ ڈائریکٹیوز' کا ایک ادارہ بن چکا ہے۔ ای ڈی مودی حکومت کا 'انفورسڈ ڈائریکٹیو' بن گیا ہے۔ وہ حکومت سے یہ بھی پوچھنا چاہیں گے کہ ای ڈی کچھ معاملات پر اتنی لمبی اور اتنی گہری خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟ حکومت میں کون لوگ ہیں جو حکومت کو اس کام سے روک رہے ہیں؟‘‘

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سالوں میں سب نے دیکھا ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے جتنے بھی جھوٹے، گمراہ کن دعوے کیے گئے، وہ ایک ایک کر کے منہدم ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں میں، ای ڈی نے کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سے 54 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، لیکن دوسرے دیگر معاملوں میں وہ خاموش ہے۔


ایک معاملے کا ذکر کرتے ہوئے گورو بلبھ نے کہا کہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے تعلق سے وہ نہیں کہہ رہے، حکومت بھی نہیں کہہ رہی، ملک کی کوئی ایجنسی بھی نہیں کہہ رہی، لیکن سری لنکا سرکار کا بجلی بورڈ، جس کا نام سیلون الیکٹرسٹی بورڈ ہے، اس کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ مودی جی ان کے صدر راجا پاکسے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی جی نے سری لنکا کے صدر کے ذریعے دباؤ ڈالا کہ سری لنکا میں ونڈ پاور پروجیکٹ کا کام اڈانی گروپ کو دیا جائے۔ یہ بات کوئی اور نہیں سری لنکا کے بجلی بورڈ کے چیئرمین کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کا وزیراعظم پرائیویٹ پارٹیوں کے ٹھیکے لینے کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا ہندوستان جیسے عظیم ملک کا وزیر اعظم کسی کمپنی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے کہ ٹھیکہ اڈانی گروپ کو دیا جائے؟ کیا ای ڈی اور دیگر ایجنسیوں نے اس کی جانچ کرنا مناسب نہیں سمجھا؟ وہاں اتنی خاموشی کیوں تھی؟ کیا ای ڈی نے اس کا نوٹس لیا ہے؟


گورو نے ایک اور معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی نے 2014 میں جیسے ہی اقتدار سنبھالا اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے ایک ایم او یو کا مسودہ بنایا اور اس ایم او یو کے مسودے کے تحت ایک بلین ڈالر یعنی 7,825 کروڑ روپے اسٹیٹ بینک اور تمام بینکوں کے ایک کنسورشیم نے اڈانی کو فنڈ دینے کا سوچا اور یہ فنڈ آسٹریلیا میں کانوں کے لیے اڈانی کو دیا جانا تھا۔ جب ملک کے اندر اور آسٹریلیا میں اس کی مخالفت ہوئی تو اس ایم او یو کو ختم کر دیا گیا۔

گورو نے پوچھا کہ کیا ای ڈی نے کبھی اڈانی کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے قرض لینے کے لیے کس پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟ کیا ای ڈی نے اسٹیٹ بینک کو فون کیا اور پوچھا کہ وزارت خزانہ میں بیٹھے کون سے وزیر اڈانی کو قرض دینے کے لیے آپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں، فہرست بہت طویل ہے لیکن پھر بھی چند کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔


انہوں نے پوچھا کہ کیا ای ڈی نے کبھی ایشورپا کو فون کر کے پوچھا کہ یہ 40 فیصد کمیشن کا کیا معاملہ ہے جس کے بارے میں کرناٹک کے کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا؟ کیا ای ڈی نے بومئی صاحب کو فون کیا اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ آپ جو بھی کام کرتے ہیں اس پر 40 فیصد کمیشن لینے کا الزام ہے؟ کیا ای ڈی نے کبھی مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کو فون کرکے پوچھا کہ ویاپم گھوٹالہ کے مجرم کون ہیں؟کیا ای ڈی نے کبھی ہیمنت بسوا سرما کو فون کیا اور پوچھا کہ یہ پی پی ای کٹ گھوٹالہ کیسے ہوا؟ کانگریس نے ای ڈی کی کارروائی کے تعلق سے کئی سوال کئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔