بنگال انتخابات سے عین قبل گرفتار آئی پیک کے ڈائریکٹر ونیش چندیل 10 دن کی تحویل میں، ای ڈی کرے گی پوچھ گچھ
دہلی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آرکی بنیاد پرای ڈی نے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ اب تک کی جانچ میں آئی پیک کے ذریعہ مالی بے ضابطگیاں اور منی لانڈرنگ کے مختلف طریقوں کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

بنگال انتخابات سے عین قبل کارروائی کرتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پیر کو انڈین پی اے سی کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (آئی۔ پیک) کے ڈائریکٹر ونیش چندیل کو منی انسداد لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کی دفعات کے تحت جاری تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کرلیا۔ ونیش چندیل آئی پیک کے بانی ڈائرکٹر اور 33 فیصد شیئر ہولڈر ہیں۔ عدالت نے نصف شب میں ہی انہیں 10 دن کی تحویل میں ای ڈی کو سونپ دیا ہے۔
دہلی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آرکی بنیاد پرای ڈی نے جانچ شروع کی ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں آئی پیک کے ذریعے متعدد مالی بے ضابطگیاں اور منی لانڈرنگ کے مختلف طریقوں کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔ ان میں اکاؤنٹڈ اور بے حساب کتاب والے فنڈز کی وصولی، کاروباری سرٹیفکیٹ کے بغیر غیر محفوظ قرضوں کا حصول، جعلی بل اور رسید جاری کرنا، فریق ثالث سے فنڈز وصول کرنا اور بین الاقوامی حوالہ کے ذریعے نقد لین دین شامل ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ آئی پیک کروڑوں روپے کی مجرمانہ رقم کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھی۔ اب تک برآمد کی گئی رقم تقریباً 50 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
تفتیش کے دوران لین دین میں ملوث مختلف افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ تلاشی بھی لی گئی اور قابل اعتراض مواد اکٹھا کیا گیا۔ تفتیش کے تحت جرائم میں ونیش چندیل کے کردار سامنے آیا ہے۔ قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت کمپنی کے ڈائریکٹرایسی صورت میں ذمہ دار ہوتے ہیں جب جرم ان کی رضامندی، ملی بھگت یا لاپرواہی سے کیاگیا ہو۔ گرفتاری کے بعد ونیش چندیل کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا۔ سماعت پیر کی رات دیر گئے جاری رہی۔ اس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج شیفالی برنالہ ٹنڈن نے چندیل کو 10 دن کی تحویل میں بھیج دیا۔ ای ڈی اب پوچھ گچھ کی بنیاد پر مزید کارروائی کرے گی۔
اس دوران بنگال میں حکمراں ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی نے ونیش چندیل کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ مغربی بنگال کے انتخابات سے تقریباً 10 دن قبل آئی پیک کے شریک بانی ونیش چندیل کی گرفتاری نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ ’یکساں مواقع‘ کے جذبے کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے وقت میں جب مغربی بنگال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، اس طرح کی کارروائی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر آپ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو آپ بھی اگلا نشانہ بن سکتے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ دھمکی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔