آئی-پیک چھاپہ ماری: ای ڈی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں آج ہوگی سماعت، ممتا بنرجی پر تلاشی میں مداخلت کا الزام

سپریم کورٹ ای ڈی کی اس عرضی پر سماعت کرے گا جس میں آئی-پیک کے دفتر اور پرتیک جین کے گھر پر چھاپہ کے دوران ریاستی مداخلت کا الزام ہے، عدالت نے پہلے ہی پولیس ایف آئی آر پر روک لگا رکھی ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ منگل کے یعنی آج روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی اس عرضی پر سماعت کرے گا، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال حکومت اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سیاسی مشاورتی فرم انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی، یعنی آئی-پیک، کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کے کولکاتا واقع مکان پر ہونے والی حالیہ تلاشی کے دوران مداخلت کی۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ ریاستی مشینری نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کے افسران کو ان کے قانونی فرائض انجام دینے سے روکا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کاز لسٹ کے مطابق، جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی دوبارہ سماعت کرے گی۔ ای ڈی نے اپنی عرضی میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اور کولکاتا پولیس کمشنر کے خلاف ایک ساتھ ریڈ آپریشن کے دوران قانونی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے تلاشی کے سلسلے میں مغربی بنگال پولیس کی جانب سے ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آر پر روک لگا دی تھی۔ عدالت نے ریمارک کیا تھا کہ یہ معاملہ ایک مرکزی تفتیش میں ریاستی ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت جیسے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


بنچ نے وزیراعلیٰ اور سینئر پولیس افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں دو ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی اور معاملے کو 3 فروری کے لیے درج کیا تھا۔ اپنے عبوری حکم میں عدالت نے تلاشی والی جگہوں اور آس پاس کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز کو محفوظ رکھنے کا بھی حکم دیا تھا، تاکہ حقائق کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔

عدالت نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ اگر اس طرح کے معاملات کو حل کیے بغیر چھوڑ دیا گیا تو ایک یا ایک سے زیادہ ریاستوں میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ای ڈی کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس واقعے کو جمہوریت کے بجائے ہجوم کے دباؤ کی مثال قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی ایجنسی کے افسران کو دھمکایا گیا اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی گئی۔

دوسری طرف، مغربی بنگال حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ای ڈی کی عرضی کی قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے فورم شاپنگ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں اس معاملے سے متعلق مناسب قانونی راستے موجود ہیں، جہاں اسی نوعیت کی درخواستیں پہلے ہی زیر التوا ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔