بہار: این ای ای ٹی طالبہ کی موت معاملے میں جانچ تیز، ایک اور دھمکی آمیز خط ملنے سے متاثرین دہشت میں

دوسرے دھمکی آمیز خط میں کہا گیا ہے کہ’’ اگر تم یقین نہیں کروگے...بیٹی چلی گئی، بیٹا بھی دو دن میں مرجائے گا۔‘‘ متاثرین نے کہا کہ اس سے پہلے 14 فروری کو اسی طرح کا نوٹ ان کے گھر کے باہر پھینکا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>سی بی آئی ٹیم، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

جہان آباد کی ایک این ای ای ٹی طالبہ کی مشتبہ موت کے معاملے میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے تحقیقات تیزکردی ہے جبکہ متاثرہ کے خاندان کو ایک اورجان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے، جس سے خوف و ہراس میں اضہ ہوگیا ہے۔ منگل کے روز سی بی آئی کی ٹیم نے پہلے پٹنہ میں شمبھو گرلز ہاسٹل کا معائنہ کیا اور بعد میں جہان آباد میں طالبہ کے آبائی گھر کا دورہ کیا۔ تحقیقات کے دوران متوفی طالبہ کے بھائی کو پوچھ گچھ کے لیے پٹنہ لے جایا گیا ہے۔

دریں اثنا جہان آباد میں خاندان کے گھر کے قریب سے ملنے والے ایک اور دھمکی آمیز نوٹ نے خاندان کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔ ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ میں مبینہ طور پر دھمکی دی گئی ہے کہ’’ اگر تم یقین نہیں کروگے...بیٹی چلی گئی، اب بیٹا بھی دو دن میں مرجائے گا۔‘‘ خاندان کے اراکین نے کہا کہ یہ دوسری دھمکی ہے۔ اس سے پہلے 14 فروری کو بھی اسی طرح کا نوٹ ان کے گھر کے باہر پھینکا گیا تھا۔ ان کے مطابق حفاظتی انتخابات کے باوجود مبینہ طورپر گاؤں کے کسی شخص نے گھر کے باہر پھر سے نوٹ پھینکا ہے۔


بار بار مل رہی دھمکیوں نے خاندان کی حفاظت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ شکور آباد تھانے سے مقامی پولیس کو اب گھر پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ شکور آباد اسٹیشن ہاؤس آفیسر راہل کمار نے تصدیق کی کہ خاندان نے شکایت درج کرائی ہے اور کہا کہ پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے اور ان دھمکی آمیز حرکتوں کے پیچھے سرگرم افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود متاثرہ کے والد نے کہا کہ گھر میں خوف کا ماحول ہے۔

انہوں نے انتظامی لاپرواہی کا الزام لگایا اور سخت سیکورٹی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مکمل طور پرغیر محفوظ محسوس کررہے ہیں، دو بار پمفلٹ پھینکے گئے ہیں، اب ہمارے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس وقت ہم صرف بھگوان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ معاملہ خود انتہائی متنازعہ ہوگیا ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کو خودکشی قرار دیا لیکن بعد میں پوسٹ مارٹم اور ایف ایس ایل رپورٹ میں جنسی زیادتی کا انکشاف ہوا، جس سے بڑے پیمانے پرغم وغصہ پھیل گیا۔


متاثرہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ طالبہ کی عصمت دری اور قتل کیا گیا اور پولیس پرالزام عائد کیا کہ وہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی، جس نے طالبہ کو نابالغ قرار دینے کے بعد بچوں کے تحفظ اطلفال قوانین کے تحت سخت دفعات کا اضافہ کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔